لاہور میں دو غیرملکی خواتین کو بیرون ملک سے پاکستان ویزے لگو کر بلا کر اغوا، تشدد جیسی کاروائی میں ایک بیس سالہ نوجوان رضا ڈار کا نام لیا جارہا ہے تو اسلام آباد میں گروپ کیپٹن کے قتل کے ملزم سعد عباسی کی عمر بھی بیس سال بتائی جارہی ہے جس کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے۔
اگر لاہور پاکستان کی ایک امیر ترین فیملی کا بیس سال نوجوان ہے جو اس عمر میں لاکھوں ڈالرز کرپٹو میں لگا رہا ہے تو دوسری طرف ایبٹ آباد کا غریب خاندان کا اس عمر کا ہی نوجوان ہے جو اسلام آباد میں ایک اسٹور پر بیس تیس ہزار روپے تنخواہ پر کام کرتا تھا۔
ایک کے پاس پانچ لاکھ ڈالرز تھے تو دوسرے نے بیس تیس ہزار تنخواہ میں سب سے پہلے پستول خرید کر اپنی جیب میں رکھ لیا۔
ایک کو ڈالروں اور خاندان کی حکمرانی کا زعم تھا تو دوسرے کو پستول کا گرم لوہا ہر وقت گرمائے رکھتا تھا۔
آپ صرف بیس سال کی عمر میں ان دونوں کے کارنامے اور حوصلہ تو دیکھیں کہ کیسے آسانی سے یہ سب کر گزرے ہیں اور ان کے مجرمانہ ذہن کی کارستانی دیکھیں۔
ایک نے بیس سال کی عمر میں پلان بنا کر بیرون ملک سے خواتین بلا کر اپنے ہی گھر میں اغوا کرا لیں تو دوسرے نے دن دہاڑے موٹر بائیک پر لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش کی اور بندہ مار ڈالا۔
لاہور میں کھیلے گئے اس پورے کھیل میں ایک طرف ملک کی ساکھ تباہ ہوئی، بدنامی ہوئی تو اسلام آباد میں گروپ کیپٹن کا پورا خاندان تباہ ہوگیا۔
نہ پورے پاکستان کا لاہور والے واقعے میں قصور تھا نہ اسلام آباد میں گروپ کیپٹن یا اس کی فیملی کہیں سے قصور وار تھی۔ ان دونوں کے کارناموں کی قیمت ایک طرف ملک کی ساکھ نے ادا کی ہے تو دوسری طرف گروپ کیپٹن کا خاندان عمر بھر قیمت دے گا۔
ویسٹرن/کائو بوائز فلموں میں ایسے واقعات دیکھتے تھے تو سمجھتے تھے یہ سب فلموں کی کہانیاں ہیں، شاید سکرین پر کیمروں کا ٹرک ہے۔
اب یہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوا ہے تو یقین نہیں آرہا۔ یہ دو خطرناک کارنامے صرف دو بیس بیس سالہ لڑکوں نے سر انجام دیے ہیں۔ ایک امیر خاندان تو دوسرا غریب خاندان کا لڑکا ہے لیکن طبیعت، مزاج اور تشدد کی جبلت ایک ہے۔ وہی بات کہ انسانی لالچ اور اور انسانی تشدد کا کوئی اختتام نہیں۔
لیو ٹالسٹائی کی کہانی یاد آتی ہے کہ ایک انسان کو ساری عمر کی لالچ، ماردھاڑ کے بعد آخر پر دفن ہونے کے لیے کتنی زمین درکار ہوتی ہے؟