Monday, 21 September 2026
  1. Home/
  2. Rauf Klasra/
  3. Wo Aik Mazrat Kisay Tu Giran Samajhta Hai

Wo Aik Mazrat Kisay Tu Giran Samajhta Hai

عمر بڑھنے کے ساتھ جہاں آپ کو اپنی جوانی جانے کا دکھ ہوتا ہے وہیں آپ کے اندر ٹھہرائو اور کچھ وزڈم پیدا ہونی شروع ہوتی ہے اس کا بھی الگ مزہ ہے۔ اس کا ذاتی تجربہ مجھے کچھ دن پہلے مسٹر بکس پر ہوا۔ میں بکس دیکھ رہا تھا کہ ایک خاتون اندر داخل ہوئی۔ انہوں نے مجھے دیکھا تو مجھے بھی لگا شاید انہیں پہلے کہیں دیکھا ہے لیکن فوراََ یاد نہ آیا کہ کہاں ملاقات ہوئی ہوگی۔

لہذا دوبارہ بکس دیکھنے لگ گیا۔ وہ خاتون میرے قریب آئیں اور کہا رئوف صاحب آپ نے مجھے پہچانا؟

میں نے اب کی دفعہ غور سے دیکھا۔ اب بھی وہ قابل ذکر شخصیت کی مالک تھی لیکن چند برس قبل وہ یقیناََ بہت خوبصورت ہوں گی۔

مجھے پہلی دفعہ اپنے بوڑھے ہونے کا احساس ہوا کہ ایسا چہرہ بھلا میں کیسے بھول گیا تھا لیکن اس خاتون کو یاد تھا۔

خیر لوگ مجھے اخبار، کالم، ٹی وی یا وی لاگ پر دیکھتے رہتے ہیں اور ان کی میموری فریش رہتی ہے اور مجھے کوئی ایک آدھ دفعہ ملے تو بھلا بندہ کیسے چہرہ یاد رکھے۔ پھر بھی مجھے شرمندگی ہوئی کہ مجھے یاد رکھنا چاہئے تھا۔ یہ میری نالائقی تھی۔

خیر وہ بولیں میری آپ سے 2015 میں ملاقات ہوئی تھی اور آپ سے شدید تلخی ہوئی تھی اور شاید آپ نے یا میں نے آپ کو بلاک بھی کر دیا تھا۔

اب میں نے پھر غور سے دیکھا تو کوئی بات ذہن میں نہ آئی کہ میری اس بظاہر پڑھی لکھی گریس فل خاتون سے کیوں اس حد تک تلخ بحث ہوگئی تھی کہ ایک دوسرے کو بلاک کرنا پڑا۔

پھر بھی میرے ذہن میں کوئی حوالہ نہ ابھرا تو اپنے بوڑھے ہونے پر مزید یقین بڑھ گیا۔

اس خاتون کو بھی میرے چہرے کے تاثرات سے لگا کہ میں نے انہیں نہیں پہچانا۔

کہنے لگیں غلطی آپ کی تھی۔ میری نہیں تھی۔ آپ کا اسٹانس ہی غلط تھا۔ یہ دس سال پہلے کی بات ہے۔

میں نے کتاب بک شیلف پر رکھی اور کہا مجھے یاد نہیں پڑتا میری آپ سے کس بات پر کیوں بحث ہوگئی تھی۔ اب تو عرصہ ہوا میں کسی سے واٹس ایپ پر بھی بحث نہیں کرتا۔ کوئی بات پسند نہ آئی تو زیادہ سے زیادہ اگنور کر دیتا ہوں، کوئی زیادہ ٹاکسک لگے تو میوٹ کر دیتا ہوں اور کوئی ریڈ لائن کراس کرے تو بلاک کر دیتا ہوں۔ اب میرے لیے ذہنی سکون اہم ہے۔ لیکن اگر آپ کو دس سال کے بعد سب کچھ یاد ہے اور یہ بھی یاد ہے کہ غلطی آپ کی نہیں میری تھی تو میں دل بغیر بحث کیے آپ سے معذرت کرتا ہوں۔

ان کے چہرے پر حیرانی ابھری تو مجھے بھی خود پر حیرانی ہوئی۔

انہیں حیرانی ہوئی کہ جس بات پر دس برس پہلے تلخی کی حد تک بحث ہوئی تھی تو آج اس پر بات کیے بغیر رئوف صاحب نے معذرت کر لی تھی۔

مجھے خود پر حیرانی ہوئی کہ میں نے کتنی آسانی سے دکان میں موجود سیلزپرسنز اور پانچ دس گاہکوں کی موجودگی میں بغیر وجہ جانے معذرت کر لی تھی۔

انہوں نے تعارف کرایا کہ وہ فلاں صوبائی حکومت کی ترجمان تھیں اور میں نے وزیراعلی کے بارے کوئی مالی سکینڈل فائل کیا تھا جس پر ان سے تلخی کی حد تک واٹس ایپ پر بحث ہوگئی تھی۔

ایک اسٹوری دس سال کے بعد بھی اس خاتون کو یاد تھی بلکہ مجھے لگا ابھی بھی ان کے لہجے میں تلخی موجود تھی۔

تاہم میری معذرت سن کر ان کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔

مجھے اپنا ہی فقرہ یاد آیا اور میں بھی مسکرا پڑا کہ اپنی خبروں اور طبیعت کی وجہ سے اس وقت حالت یہ ہوچکی ہے کہ آدھا اسلام آباد مجھ سے نہیں ملنا چاہتا اور آدھے سے میں نہیں ملنا چاہتا۔ کہیں نہ کہیں کوئی ایک آدھ مل جاتا ہے جو دس سال پہلے فائل کی گئی کسی میری خبر کی وجہ سے آج تک ناراض ہے اور میں نے اب اس کا ایک ہی حل ڈھونڈا ہے کہ تسی لنگھ جائو ساڈی خیر اے۔۔

دس سال پہلے میں پوری قوت سے اگلے سے اپنی خبر پر بحث کرتا تھا اور ڈٹا رہتا تھا۔

اب میں مان لیتا ہوں کہ اس کا موقف ٹھیک تھا۔

اب بندہ دس سال کے بعد کیا کیا یاد کرے اور پوری دنیا کو جھوٹا اور خود کو سچا ثابت کرتا پھرے۔ خود کو سچا اور درست سمجھنا بھی تو ایک الگ سی ذہنی نفسیاتی بیماری ہے۔۔ اگر بحث کیے بغیر کسی کو سوری کہہ کر مسکراہٹ چہرے پر ابھر سکتی ہے تو کیا ہرج ہے۔ وہ خاتون جو ابھی تک اس تلخی کو ساتھ لیے پھر رہی تھیں تھینک یو کہہ کے گزر گئیں۔

میں بھی خود پر حیران کھڑا رہا کہ کتنی آسانی سے سوری کہہ دیا تھا۔ گزرتا وقت اور ڈھلتی عمر سب کچھ سکھا دیتی ہے۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui