Friday, 22 May 2026
  1. Home/
  2. Saadia Bashir/
  3. Higher Education Punjab: Etemad, Islahat Aur Naye Imkanat

Higher Education Punjab: Etemad, Islahat Aur Naye Imkanat

ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی موجودہ قیادت نے گزشتہ عرصے میں جو عملی، اصلاحی اور انسان دوست اقدامات کیے ہیں۔ وہ سرکاری کالجز کے نظام میں ایک نئی روح اور نئی سمت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ اقدامات محض انتظامی فیصلے نہیں بلکہ ایک جامع تعلیمی ویژن کی عکاسی ہیں جس کا مقصد اداروں کو مضبوط کرنا، اساتذہ کے اعتماد کو بحال کرنا اور طلبہ کے لئے بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے۔

کالجز میں کونسلنگ سینٹرز کا قیام، ڈے کیئر سینٹرز کی سہولیات، جدید لیبارٹریز کی بہتری اور تعلیمی انفراسٹرکچر کی آپ گریڈیشن جیسے اقدامات نے یہ ثابت کیا ہے کہ محکمہ محض کاغذی اصلاحات نہیں بلکہ عملی تبدیلی پر یقین رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بہترین اساتذہ، بہترین پرنسپلز اور بہترین کالجز کو ایوارڈز اور اسناد سے نوازنا ایک ایسا مثبت قدم ہے، جس نے پورے سرکاری کالج سسٹم میں حوصلہ، اعتماد اور صحت مند مقابلے کی فضا پیدا کی ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یہ تمام عمل KPIs کی بنیاد پر انتہائی شفاف انداز میں مکمل کیا گیا۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برسوں سے سرکاری کالجز کے اساتذہ خاموشی، محنت اور دیانت کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں، مگر بدقسمتی سے ایک مخصوص طبقے اور بعض اوقات "پرائیویٹ مافیا" کی جانب سے یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ سرکاری اساتذہ کم کام کرتے ہیں یا ان کی کارکردگی محدود ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایک استاد کا کام صرف کلاس روم میں تین یا چار گھنٹے لیکچر دینا نہیں ہوتا۔ ایک مؤثر لیکچر کی تیاری میں کئی گھنٹوں کی محنت شامل ہوتی ہے۔ ایک اچھا استاد بغیر تیاری کے کلاس میں نہیں جاتا۔ وہ نصاب کا گہرا مطالعہ کرتا ہے جدید معلومات شامل کرتا ہے۔ تدریسی حکمتِ عملی مرتب کرتا ہے اور پھر طلبہ کے سامنے ایک جامع اور مؤثر لیکچر پیش کرتا ہے۔

اس کے علاوہ ہفتہ وار اور ماہانہ ٹیسٹوں کی تیاری، ان کی چیکنگ، مارکس کی ترتیب، ریکارڈ کی تیاری اور طلبہ کی کارکردگی کا تجزیہ بھی اسی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ کالج کی انتظامی ذمہ داریاں، ڈسپلن، امتحانی ڈیوٹیز اور دیگر متعدد امور بھی اساتذہ ہی انجام دیتے ہیں۔ اکیڈمیز اور بعض یونیورسٹی سسٹمز میں جہاں پیپر بنانے اور چیکنگ کے باقاعدہ معاوضے دیئے جاتے ہیں۔ وہاں سرکاری کالجز کے اساتذہ یہ تمام کام بغیر کسی اضافی اعزازیے یا مالی فائدے کے انجام دیتے ہیں۔ یہ وہ خاموش محنت ہے جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تدریس صرف کلاس روم تک محدود نہیں، بلکہ ایک مکمل فکری، تخلیقی اور ذمہ دارانہ عمل ہے۔ جو تیاری سے لے کر امتحانات اور طلبہ کی رہنمائی تک پھیلا ہوا ہے۔

ان حالات میں جب اساتذہ مسلسل محنت کر رہے تھے، مگر ان کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے حالیہ اقدامات ایک نئے اعتماد کی علامت بن کر سامنے آئے ہیں۔ سیکرٹری ہائر ایجوکیشن شیخ غلام فرید، سپیشل سیکرٹری تجمل عباس رانا اور ڈی پی آئی کالجز ڈاکٹر انصر اظہر نے جس انداز سے اداروں اور اساتذہ کے درمیان فاصلے کم کیے ہیں، وہ ایک مثبت اور عملی پیش رفت ہے۔ یہ پہلی بار محسوس ہوا ہے کہ اساتذہ اور پرنسپلز کو نہ صرف سنا جا رہا ہے، بلکہ ان کی محنت کو باضابطہ طور پر تسلیم بھی کیا جا رہا ہے۔ باہمی رابطے کے دروازے کھلے ہیں اور مسائل کے حل میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔ دفاتر کی راہداریوں میں گھنٹوں انتظار کا کلچر بڑی حد تک کم ہوا ہے، جس سے پورے نظام میں ایک مثبت تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ بے شمار اساتذہ نے ان اقدامات پر خوشی اور تشکر کا اظہار کیا ہے اور یہ تاثرات سرکاری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے پلیٹ فارمز پر شیئر کیے جا رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اعتماد بحال ہو رہا ہے اور اساتذہ کو محسوس ہو رہا ہے کہ ان کی محنت رائیگاں نہیں جا رہی بلکہ اسے سراہا بھی جا رہا ہے۔ ان اقدامات نے نہ صرف اساتذہ کے حوصلے بلند کیے ہیں بلکہ سرکاری کالجز کے بارے میں پھیلے ہوئے منفی تاثر کو بھی چیلنج کیا ہے۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو سرکاری کالجز واقعی ماڈل اداروں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ جہاں تعلیم کے ساتھ عزت، وقار اور پیشہ ورانہ احترام بھی بنیادی اقدار کے طور پر موجود ہوں۔

اس تمام پیش رفت کے ساتھ ایک اور اہم اور دور رس پہلو بھی توجہ طلب ہے، جس طرح حکومت کی جانب سے "سکول آف ایمننس" کے منصوبے متعارف کروائے جا رہے ہیں اسی طرح ہائر ایجوکیشن کے میدان میں بھی ہر تحصیل یا بڑے علاقے میں "کالج آف ایمننس" کے قیام پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہئے۔ آخر یہ ادارے بھی سرکاری سرپرستی میں ہی چلنے ہیں تو کیوں نہ سرکاری کالجز کو ہی اس معیار تک لے جایا جائے کہ وہ خود اپنی مثال آپ بن جائیں۔ اگر حکومت منتخب سرکاری کالجز کو "کالجز آف ایمننس" کا درجہ دے کر وہاں جدید سہولیات، معیاری تدریس، تخلیقی ماحول اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی یقینی بنائے۔ تو اس سے نہ صرف سرکاری اداروں کی ساکھ مضبوط ہوگی بلکہ عوام کا اعتماد بھی مزید بحال ہوگا۔ یہ ایک مثبت پیغام ہوگا کہ حکومت اپنے ہی تعلیمی اداروں پر یقین رکھتی ہے اور انہیں قومی ترقی کے حقیقی مراکز بنانا چاہتی ہے۔

ایسے وقت میں جب اساتذہ طبقہ اپنے جائز مطالبات کے لئے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہے۔ ان اصلاحات اور ایوارڈز نے یقیناََ حوصلہ افزائی کا پیغام دیا ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ سرکاری اداروں کے اساتذہ کو درپیش مسائل، ملازمت کا تحفظ، سروس اسٹرکچر، بنیادی سہولیات اور فلاح و بہبود کے معاملات بھی فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ "سکول آف ایمننس"یا "کالج آف ایمننس" جیسے منصوبوں کی کامیابی اسی صورت ممکن ہے جب وہاں تعینات سٹاف کو عدم تحفظ یا غیر ضروری ڈس لوکیشن کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ بظاہر چھوٹے مگر نہایت اہم نکات ہیں جنہیں پالیسی سازی میں ضرور شامل کیا جانا چاہئے۔

اسی طرح نصاب میں بھی وقت کے ساتھ جدت اور نظرثانی کی ضرورت ہے۔ صدیوں پرانا یا غیر متحرک نصاب نوجوان ذہنوں کو عصرِ حاضر کے چیلنجز کیلئے مکمل طور پر تیار نہیں کر سکتا۔ تعلیم کو صرف ڈگری کے حصول تک محدود رکھنے کے بجائے اسے تحقیق، تخلیق، تنقیدی شعور اور عملی زندگی سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ اگر سرکاری کالجز میں یہ ویژن مضبوطی اور تسلسل کے ساتھ نافذ ہوگیا تو یقیناََ یہی ادارے مستقبل میں پنجاب کی علمی، تحقیقی اور سماجی ترقی کے سب سے مضبوط ستون ثابت ہونگے۔

مختصراً ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی حالیہ اصلاحات نے سرکاری کالجز کے نظام میں ایک نئی امید، اعتماد اور مثبت سوچ کو جنم دیا ہے۔ اساتذہ کی محنت کو تسلیم کرنا، اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور تعلیمی ماحول کو بہتر بنانا ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ تاہم اس سفر کی کامیابی صرف ایوارڈز یا اعلانات سے نہیں بلکہ اساتذہ کے مسائل کے مستقل حل، نصاب کی جدت، روزگار کے تحفظ اور اداروں کی مضبوطی سے مشروط ہے۔ اگر یہی ویژن تسلسل، دیانت اور عملی حکمتِ عملی کے ساتھ جاری رہا تو سرکاری کالجز یقیناََ مستقبل میں علمی ترقی، تحقیقی معیار اور قومی تعمیر کے حقیقی مراکز بن سکتے ہیں۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais