Saturday, 29 August 2026
  1. Home/
  2. Saadia Bashir/
  3. Kushaish Ko Hamara Uqda Pasand Aaya

Kushaish Ko Hamara Uqda Pasand Aaya

ہم نے آخرکار ترقی کا وہ راز دریافت کر لیا ہے جس سے دنیا ابھی تک ناواقف ہے۔ انسان کو جتنا زیادہ مشکل میں رکھا جائے۔ وہ اتنا ہی بہتر انسان بنتا ہے۔ یعنی مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں۔ سہولت، آسانی، وقت کی بچت، عزتِ نفس اور بنیادی حقوق۔ یہ سب بظاہر اچھی چیزیں ہیں لیکن ان میں ایک خطرناک خرابی ہے۔ یہ انسان کو خود اعتمادی دے سکتی ہیں اور خود اعتمادی، جیسا کہ ہم جانتے ہیں۔ کسی ایسے نظام کیلئے زیادہ مفید چیز نہیں جو شہری کو سوال کرنے سے پہلے اطاعت کا عادی بنانا چاہتا ہو۔

چنانچہ ہمارے ہاں ایک خاموش تربیتی نظام جاری ہے۔ شہری کو سہولت کا عادی نہ ہونے دیا جائے۔ ایئرپورٹ اس تربیت کی ایک عمدہ مثال ہے۔ مسافر ٹکٹ لے کر آتا ہے۔ وقت پر پہنچتا ہے۔ سامان اٹھائے قطار میں کھڑا ہوتا ہے اور یہ توقع رکھتا ہے کہ اسے محض مسافر سمجھا جائے گا۔ کسی مسئلے کا حصہ نہیں مگر یہ توقع شاید کچھ زیادہ ہی غیرضروری ہے۔ کاؤنٹر اچانک بند ہو سکتا ہے۔ مشین سست پڑ سکتی ہے۔ نظام جواب دے سکتا ہے اور مسافر کو آخر تک یہ معلوم نہیں ہوتا کہ خرابی کہاں ہوئی۔ سوائے اس کے کہ اب وہ خود خرابی بن چکا ہے پھر اگر ٹکٹ ضائع ہو جائے۔ سفر رہ جائے اور وہ مایوس ہو کر واپس آئے تو ایک مختصر سا جملہ اس کی پوری داستان کا اختتام کر دیتا ہے۔

کاؤنٹر کلوز ہو چکا ہے، اس جملے میں ہماری انتظامی حکمتِ عملی کا غیرمعمولی اختصار موجود ہے، نہ وضاحت، نہ ذمہ داری، نہ متبادل راستہ۔ صرف ایک بند کاؤنٹر اور اس کے سامنے کھڑا ایک شہری، کسے اندر جانے دینا ہے اور کسے روکنا ہے، یہ بھی شاید کسی ایسے اعلیٰ انتظامی علم کا حصہ ہے جس سے عام آدمی کو واقف کرانا ضروری نہیں سمجھا جاتا کسی کو جانے دیا جاتا ہے۔ کسی کو نہیں۔ اصول کیا ہے؟ شاید اصول ہی یہی ہے کہ اصول معلوم نہ ہو۔ دنیا کے کچھ حصوں میں اب بھی یہ پرانا تصور باقی ہے کہ ریاست شہری کی خدمت کے لیے ہوتی ہے۔ وہاں کسی مسافر کو مشکل پیش آئے تو عملہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ راستہ بتاتا ہے اور ممکن حد تک سہولت فراہم کرتا ہے یعنی وہاں شہری کو انسان سمجھنے کی روایت ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

ہمارے ہاں شاید اس کے برعکس ایک زیادہ گہری انتظامی بصیرت کارفرما ہے۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ اگر شہری کو مسلسل سہولت ملتی رہی تو کہیں اسے یہ خیال نہ آ جائے کہ سہولت دراصل اس کا حق ہے اگر اس کا کام وقت پر ہوگیا تو وہ آئندہ بھی وقت کی پابندی کی توقع کرے گا اگر کسی نے اس سے عزت سے بات کر لی تو وہ دوبارہ عزت چاہے گااگر کسی سرکاری دفتر میں اس کی رہنمائی کر دی گئی تو وہ اگلی مرتبہ بھی یہی توقع لے کر آ جائے گا اور اگر کسی ادارے نے واقعی اس کا مسئلہ حل کر دیا تو ممکن ہے وہ ایک دن یہ سوال بھی پوچھ بیٹھے کہ باقی مسائل حل کیوں نہیں ہوتے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آسانی خطرناک ہو جاتی ہے، اس لیے شہری کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ اسے قطار میں کھڑا رکھو۔ پھر دوسری قطار میں بھیج دو۔ وہاں پہنچے تو بتاؤ کہ متعلقہ کاؤنٹر بند ہے۔ ایک کھڑکی سے دوسری کھڑکی تک بھیجو۔ وہی معلومات دوبارہ مانگو جو وہ پہلے ہی کئی بار دے چکا ہے آخر میں اسے پوری سنجیدگی سے بتا دو کہ معاملہ آپ کے اختیار میں نہیں۔

یہ سب یقیناََ اس کی تربیت کے لئے ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ شہری مضبوط ہو اور مضبوط بنانے کا اس سے بہتر طریقہ کیا ہو سکتا ہے کہ اسے بار بار یہ احساس دلایا جائے کہ اس کے پاس شعور نہیں۔ جسم کی تربیت کے بعد ذہن کی تربیت بھی ضروری ہے، اسے اتنا آرام نہ دو کہ وہ آسودگی کا عادی ہو جائے اور اتنی خاموشی بھی نہ دو کہ وہ سوچنے لگے۔ اسے خوف دو، غصہ دو، افواہیں دو، تعصبات دو، بے معنی بحثیں دو۔ اتنا شور پیدا کرو کہ اصل سوال کی آواز سنائی نہ دے۔ اسے یہ سوچنے دو کہ فلاں نے کیا کہا، فلاں نے کیا پہنا، فلاں کس کے ساتھ کھڑا تھا اور فلاں کہاں گیا۔ بس اسے یہ سوچنے کا موقع نہ دو کہ میرے حقوق و فرائض کیا ہیں۔ میرا وقت کیوں ضائع ہوتا ہے۔ میرے ساتھ عزت سے کیوں پیش نہیں آیا جاتا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ نظام آخر میرے لیے کیوں نہیں بنایا گیا۔

کیونکہ سوال صرف سوال نہیں ہوتا۔ بعض اوقات سوال پورے نظام کا آئینہ ہوتا ہے۔ جس دن شہری یہ سوال پوچھنا شروع کر دے۔ اس دن ایئرپورٹ کا بند کاؤنٹر محض ایک بند کاؤنٹر نہیں رہتا۔ وہ ایک بڑے نظام کی علامت بن جاتا ہے۔ ایسا نظام جہاں دروازے بہت ہیں مگر راستے کم۔ قواعد بہت ہیں مگر ذمہ داری کم اور فیصلے بہت ہیں مگر جواب دہی کہیں نہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں آسانی ایک مسئلہ ہے اور شاید اسی تربیت کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ بعض لوگوں کو اپنی وفاداری، بے بسی یا خاموش رضامندی ثابت کرنے کیلئے ایسی حدوں تک جانا پڑتا ہے جہاں انسان اپنے ہی وجود سے دست بردار ہونے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

کہیں زہر آخری دلیل بن جاتا ہے، کہیں پانی کی گہرائی اور کہیں پورا خاندان اس بے بسی کی قیمت ادا کرتا ہے۔ پھر بھی ہم اسے ایک واقعہ سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جیسے کسی انسان کا اس مقام تک پہنچ جانا بھی محض اس کی ذاتی کمزوری ہو۔ ہمارے اجتماعی رویّوں سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ ہمیں خدشہ ہے کہ اگر انسان کو کچھ سہولت مل گئی تو وہ سہولت کو اپنا حق سمجھ لے گا اگر اسے عزت مل گئی تو وہ عزت مانگنے لگے گا۔ اگر اسے انصاف مل گیا تو وہ انصاف کی توقع کرنے لگے گا اگر اسے آزادانہ سفر کا تجربہ ہوگیا تو وہ بند راستوں کے بارے میں سوال کریگا اور اگر اسے سوچنے کی فرصت مل گئی تو شاید وہ ایک دن یہ بھی پوچھ بیٹھے گا کہ ہم نے مشکل زندگی کو ہی نیکی، صبر اور کردار کی علامت کیوں بنا رکھا ہے۔

اس لئے بہتر یہی ہے کہ زندگی کچھ مشکل رکھی جائے۔ چنانچہ بہتر یہی ہے کہ معاملات کو ذرا الجھا ہوا رکھا جائے۔ راستے اتنے سیدھے نہ ہوں کہ آدمی پہلی کوشش میں منزل تک پہنچ جائے اور ہر آسان کام میں اتنی گنجائش ضرور رہے کہ انسان کو اپنی کوشش کا احساس ہوتا رہے پھر جب وہ ایک کاؤنٹر سے دوسرے، ایک جواب سے دوسرے جواب اور ایک امید سے دوسری مایوسی تک کا سفر مکمل کر لے۔ تو اسے نرمی سے بتایا جائے کہ بعض چیزیں فوری نہیں ہوتیں آخر ہر تجربہ سہل بھی تو نہیں ہونا چاہیے۔

زندگی میں کچھ انتظار ضروری ہے، کچھ الجھن ضروری ہے اور کچھ دروازے بند بھی ملنے چاہئیں تاکہ انسان کو کھلے دروازوں کی قدر معلوم رہے۔ بس احتیاط اتنی ضروری ہے کہ یہ تربیت کہیں اس حد تک نہ پہنچ جائے کہ آدمی ایک دن رک کر سوچنے لگے۔ مسئلہ واقعی مشکل تھا، یا اسے مشکل بنائے رکھنا ہی محبوب ہے۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui