Wednesday, 29 April 2026
  1. Home/
  2. Saadia Bashir/
  3. Waham, Rad e Amal Aur Bikharta Muashra

Waham, Rad e Amal Aur Bikharta Muashra

جنگل کا منظر ذرا تصور میں لائیے۔ کہیں خاموش فضا ہے۔ درخت ساکت ہیں اور ہوا بھی جیسے دبے پاؤں چل رہی ہو۔ اچانک دور سے کوئی ہلکی سی آہٹ سنائی دیتی ہے اور پھر پورا منظر بدل جاتا ہے۔ پرندے شور مچاتے آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ کچھ بے ترتیب اڑان بھر لیتے ہیں۔ کچھ درختوں پر دم سادھ لیتے ہیں۔ جیسے انہیں خود بھی نہیں پتا کہ خطرہ کہاں ہے۔ مگر خطرہ ضرور ہے۔ فضا ایک دم شور سے بھر جاتی ہے۔

ہرن ایک چوکنا ہو کر چوکڑیاں بھرنے لگتا ہے۔ کچھ جانور گو مگو کے عالم میں فیصلہ ہی نہیں کر پاتے کہ بھاگنا ہے یا رکنا ہے۔ بندر ایک ہی لمحے میں شاخوں پہ جھولنے لگتا ہے۔ شیر اپنی دھاڑ سے پورے جنگل کو لرزا دیتا ہے۔ ہاتھی اپنی قوت کے اظہار میں اپنی سونڈ اٹھا کر زمین پر زور سے مارتا ہے۔ ایک ہی لمحہ۔ ایک ہی ماحول۔ مگر ہر جانور کا ردِعمل الگ ہے۔ کہیں چپ۔ کہیں شور۔ کہیں بھاگ دوڑ اور کہیں مقابلہ۔

یہی منظر اگر بدل دیا جائے تو جنگل غائب ہو کر شہر سامنے آ جاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جنگل میں جبلت بولتی ہے۔ جبکہ انسان کے پاس شعور، سوچ اور انتخاب کی طاقت موجود ہوتی ہے۔ اس کے باوجود انسانی رویے کئی بار اسی فطری شدت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ کلاس روم ہے۔ بازار ہے۔ گلیاں ہیں۔ سڑکیں ہیں اور ان سب میں انسان ہیں۔ کچھ لوگوں کی زندگی میں صرف خاموشی ہوتی ہے۔ جیسے کلاس روم میں استاد کچھ کہے اور بچے فوراً منہ پر انگلی رکھ لیں۔ نہ سوال۔ نہ اعتراض۔ نہ ردِعمل۔ بس چپ۔ یہ لوگ ہر بات سنتے ہیں۔ مگر ہر بات کا جواب نہیں دیتے۔ بعض اوقات شدید ناانصافی کے باوجود بھی آواز بلند نہیں کرتے۔ جیسے آواز ان کے اندر کہیں دب جائے اور شور باہر آ ہی نہیں پائے۔

کچھ لوگ نظریں جمائے چیزوں اور زندگی کو صرف گزرنے دیتے ہیں۔ نہ غصہ۔ نہ ردِعمل۔ جیسے بازار میں بھیڑ ہو اور وہ اس بھیڑ کے درمیان سے خاموشی سے نکل جائیں۔ مگر ایک تیسرا انداز بھی ہے اور یہی سب سے زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے ہر واقعہ فوری ردِعمل کا مطالبہ کرتا ہے۔ وہ ہر بات کو فوراً اپنے اوپر لے لیتے ہیں۔ بات مکمل ہونے سے پہلے ہی نتیجہ اخذ کر لیا جاتا ہے اور اندازے کو حقیقت سمجھ لیا جاتا ہے۔ معمولی اشارہ بھی ان کے ذہن میں بڑے مفہوم اختیار کر لیتا ہے۔ کسی نے ہنستے ہوئے کچھ کہہ دیا تو انہیں لگتا ہے یہ طنز تھا۔

کسی نے چہرہ بدل لیا تو انہیں لگتا ہے یہ ان کی توہین ہے۔ بس ایک لمحہ! اور پورا ذہن ایک کہانی بنا لیتا ہے اور پھر ردِعمل شروع ہو جاتا ہے۔ کبھی آواز بلند ہو جاتی ہے۔ کبھی شوروغل کی صورت اور بعض اوقات عملی تصادم۔ بات وہاں تک پہنچ جاتی ہے جہاں واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔ سڑک پر معمولی سا ٹکراؤ ہو جائے۔ تو بھی بات بڑھ جاتی ہے۔ پہلے نظر۔ پھر لفظ۔ پھر شور اور پھر بعض اوقات ہاتھ بھی چل پڑتے ہیں۔ یعنی چل سو چل۔

دانشوروں کے بس میں یہ رد عمل نہ تھا
میں ایسی تیغ لے کے اٹھا جس میں پھل نہ تھا

یہ ردِعمل معاشرے کا چہرہ نہیں۔ لیکن اس رد عمل کی آواز بلند ہے۔ یہ رد عمل چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑے جھگڑوں میں بدل دیتا ہے۔ بات سمجھنے کی بجائے صرف جواب فرض لگنے لگتا ہے۔ ہر بات شک کے دائرے میں رکھ کر حصار باندھ دیا جاتا ہے۔ ہر جملہ سائبر اٹیک محسوس ہوتا ہے اور پورا دماغ وائرس زدہ ہو جاتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں رہتا کہ بات کیا تھی اور صورت کچھ یوں بن جاتی ہے کہ "کہا کچھ تھا وہ کچھ سمجھے مجھے کچھ اور کہنا تھا" اصل مسئلہ پاپی پیٹ کی روٹی بن جاتا ہے۔ کبھی صرف ایک احساس ہوتا ہے۔ مگر وہ احساس پورا واقعہ بن جاتا ہے۔ کبھی صرف محسوس ہوتا ہے۔ مگر پوری کہانی لپیٹ کر فیصلہ بنا دیا جاتا ہے۔

آج کے معاشرہ میں یہ کیفیت اور بڑھ گئی ہے۔ کوئی خاموش ہو تو اسے کمزور سمجھا جاتا ہے اور کوئی بول پڑے۔ تو وہ تنازعہ بن جاتا ہے۔ درمیان کی جگہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عزت نہ چیخنے سے ملتی ہے۔ نہ طاقت دکھانے سے۔ اصل الجھن یہ ہے کہ انسان اکثر احساس اور حقیقت کے فرق کو کھو کر توہم کے کارخانے تعمیر کرنے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں وہم حقیقت پر غالب آنے لگتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہر ردِعمل کے پیچھے ایک پس منظر ہوتا ہے۔ دباؤ، محرومی، یا غلط فہمی انسان بھی کو غیر ضروری شدت کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ ایک معمولی بات بھی اندر جمع شدہ بوجھ کو باہر نکال سکتی ہے اور لمحہ حقیقت سے زیادہ بڑا محسوس ہونے لگتا ہے۔ اگر معاشرہ ان رویوں کو صرف الزام کی نظر سے دیکھے تو مسئلہ حل نہیں ہوتا، بلکہ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ بھی ہے۔

پتھراؤ کر رہا ہے وہ خود اپنی ذات پر
کیا دل کے مسئلے کا کوئی اور حل نہ تھا

معاشرہ سمجھنے کے بجائے ردِعمل دینے کی عادت میں مبتلا ہو جائے۔ تو یہ رویہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتا ہے اور گفتگو کی جگہ تصادم لے لیتا ہے۔ زندگی ایک مسلسل بہاؤ ہے۔ جس میں ہر چیز فوری ردِعمل کی متقاضی نہیں ہوتی۔ کیونکہ اگر ہر پرندہ چیخنے لگے۔ ہر بندر بے چینی میں بھاگنے لگے اور ہر شیر ہر بات پر دھاڑنے لگے۔ تو پھر جنگل بھی جنگل نہیں رہتا۔ صرف شور رہ جاتا ہے اور اگر انسان بھی ہر بات پر ایسا ہی کرنے لگے۔ تو معاشرہ بھی معاشرہ نہیں رہتا۔ صرف ردِعمل رہ جاتا ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais