ایک گاؤں میں ایک دانا معمار رہتا تھا۔ وہ لوگوں کو گھر بنانے اور جوڑنے کے بے شمار طریقے سکھاتا۔ لوگ بہت دور دور سے کچی پکی اینٹوں کی عمارات رنگنے اور پائیدار بنانے کے طریقے پوچھنے اس کے پاس آتے۔ چولہے بنواتے۔ دیواریں چنوانے اور گرانے کے نت نئے پہلو سمجھتے۔ دانا معمار ہر گھر میں ایک چیز بہت غور سے بناتا تھا۔ وہ تھی چمنی۔
ایک دن اُس کے شاگرد نے معمار سے پوچھا۔
باباجی! آپ چمنی پر اتنی محنت کیوں کرتے ہیں؟ لوگ تو صرف چولہا دیکھتے ہیں۔ ڈیزائن پر محنت کرتے ہیں۔ زیبائش کے جدید انداز دیکھتے ہیں۔ بوڑھا معمار مسکرایا۔ اُس نے اپنے جھریوں بھرے ہاتھ سے دیوار پر جمی کالک کو چھوا اور بولا۔ بیٹا! لوگ سمجھنا نہیں چاہتے، مگر حقیقت میں گھر چمنی سے بچتا ہے اگر دھواں باہر نہ نکلے تو وہی آگ جو روٹی پکاتی ہے۔ ایک دن پورے گھر کو جلا دیتی ہے۔ شاگرد خاموش ہوگیا، مگر یہ بات اُس کے دِل میں کہیں بیٹھ گئی۔ وقت گزرتا گیا۔ گاؤں شہر بن گئے۔ مٹی کے چولہوں کی جگہ گیس سلنڈر آ گئے۔ بھٹیاں بڑی ہوگئیں کارخانے اونچے ہو گئے۔ عمارتیں آسمان کو چھونے لگیں، مگر انسان ایک بہت بڑی چیز بھول گیا۔ وہ چمنیاں بنانا بھول گیا۔
اب ہر انسان اپنے اندر دھواں بھرے پھر رہا تھا۔ کسی کے اندر غربت جل رہی تھی۔ کسی کے اندر بے روز گاری۔ کسی کے اندر احساس ناکامی نے دھواں بھر رکھا تھا۔ تنہائی، خوف اور مسلسل دباؤ کا دھواں بادل بن کر برس رہا تھا۔ ایک مزدور جو سارا دن اینٹیں اٹھاتا تھا۔ شام کو جب گھر آتا تو اُس کے بچے اُس کے گلے لگتے، مگر وہ مسکرا نہیں پاتا تھا۔ وہ تھکا ہوا نہیں تھا۔ وہ اندر سے بھرا ہوا تھا۔ ایسے ہی وہ رکشہ والا دھوئیں سے بھر چکا تھا، جس سے نجات کے لئے اس نے زندگی سے نجات چن لی۔ وہ اپنا دھواں بھی ہمارے پاس چھوڑ گیا ہے۔ اُس کے لئے کوئی چمنی نہیں تھی، کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں وہ بیٹھ کر کہہ سکتا۔ میں بھی انسان ہوں۔ میں بھی تھک جاتا ہوں۔
ایک طالبعلم تھا، جو یونیورسٹی میں ہر وقت ہنستا رہتا تھا۔ لوگ سمجھتے تھے وہ بہت خوش ہے، مگر رات کو وہ اپنی کتابوں کے درمیان خاموش بیٹھ کر روتا تھا۔ امتحانات کا دباؤ، گھر والوں کی اُمیدیں، مستقبل کا خوف۔ نالائق متعصب استاد سب اُس کے اندر دھواں بن کر تیر رہے تھے، مگر نہ تو کسی نے اُس سے پوچھا کہ اس دھوئیں کی وجہ کیا ہے۔ نہ وہ بتا سکا، کیونکہ یہ دھواں اس کی سانسوں میں بھر چکا تھا۔
ایک عورت تھی، جو پورا گھر سنبھالتی تھی۔ سب کے لئے کھانا بناتی۔ سب کی سنتی۔ سب کا غصہ برداشت کرتی، مگر اُس کی اپنی بات سننے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ بھی ایک بند کمرے کی طرح تھی، جس میں دھواں ہر دن پھیلتا جا رہا تھا۔ یہ لاکھوں لوگ تھے جو دھواں دھواں غبار بن چکے تھے۔ ہم نے اصطلاحات کے چولہے تو لگا لئے ہیں، مگر چمنیاں بنانا بھول گئے ہیں۔ جیسے گھروں میں دھواں نکالنے کے لئے چمنی ضروری ہوتی ہے۔ ویسے ہی انسانوں کے اندر جمع دکھ، غصہ، خوف اور دباؤ نکالنے کے لئے بھی سہولیات کی فراہمی ضروری ہے۔
گرد باد بنے انسان عمارتیں بناتے، دھوئیں کی چادروں میں کالے پڑ رہے ہیں۔ کالجز میں کاؤنسلنگ سینٹر بنا لئے گئے ہیں۔ اُمید ہے بچوں کی بات سنی جائے گی۔ جہاں کسی طالبعلم کو یہ خوف نہ ہوگا کہ اُس کے آنسو کمزوری سمجھے جائیں گے۔ سکولز میں ایسے اساتذہ بھی ہوناچاہئیں جو صرف حاضری نہ لیں۔ دلوں کی خاموشی بھی پڑھ سکیں۔ مزدوروں کے لئے بھی مراکز ہونا چاہئیں۔ جہاں اُن سے صرف کام نہ لیا جائے بلکہ اُن کے درد کو بھی سنا جائے، کیونکہ جو ہاتھ کام کرتے ہیں۔ وہ کبھی کبھی کانپتے ہیں۔
ہسپتالوں میں صرف جسم کا علاج نہیں۔ روح کا علاج بھی ہونا چاہئے، کیونکہ کئی لوگ بیماری سے نہیں۔ خاموشی کے دھوئیں سے بھی مر جاتے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں ذہنی دباؤ سے متاثرہ طلبہ کے لئے محتسب ہونا چاہئیں، کیونکہ طالبعلم بھی اخبار کی طرح ہوتے ہیں۔ اوپر سے صاف، ترتیب میں اور معمول کے مطابق نظر آتے ہیں، مگر اندر ہر روز سینکڑوں خبریں، خوف، دباؤ اور جنگیں سمیٹے ہوتے ہیں۔
کتنا جلا ہوا ہوں بس اب کیا بتاؤں میں
عالم دھواں دھواں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا
یہ معاشرہ اب ایک ایسے شہر کی طرح ہوگیا ہے جہاں ہر گھر میں آگ جل رہی ہے، مگر کسی گھر میں چمنی نہیں۔ اسی لئے لوگ جلد غصہ کرتے ہیں۔ چھوٹی باتوں پر ٹوٹ جاتے ہیں۔ برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ انسان جب اندر سے بھر جائے تو پھر معمولی چنگاری بھی دھماکہ بن جاتی ہے۔ ہمیں انسانوں کے لئے چمنیاں بنانا ہوں گی۔
سننے والی چمنیاں۔ محبت والی چمنیاں۔ خاموشی کو لفظ دینے والی چمنیاں۔ ایسی چمنیاں جہاں کوئی تھکن کو بتاتے ہچکچائے نہیں اور جواب میں اُسے نصیحت نہیں۔ صرف پُرسکون سماعت ملے۔ شاید دنیا کو اب نئی عمارتوں سے زیادہ نئی چمنیوں کی ضرورت ہے۔ بقول میر
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
اگر دھواں باہر نکلنے کا راستہ نہ پائے۔ تو ایک دن انسان اندر ہی اندر جلتے جلتے راکھ ہو جاتے ہیں۔