Saturday, 21 February 2026
  1. Home/
  2. Sofia Baidar/
  3. Safe City Shahbaz Sharif Se Maryam Nawaz Tak

Safe City Shahbaz Sharif Se Maryam Nawaz Tak

گزشتہ دنوں "پنجاب سیف سٹی" میں سینئر صحافیوں کو ادارے کی کارکردگی اور متعدد نئے پراجیکٹ سے آگاہی کے لئے "وزٹ" اور بہترین بریفنگ کا اہتمام تھا۔ جسے ڈی آئی جی پولیس محمد احسن یونس کو مطالعاتی طور پر بریف کرنا تھا مگر ان کی اسلام آباد اچانک جانے کی صورت میں چیف آپریٹنگ آفیسر مستنصر فیروز کو یہ بریفنگ سلیس اور بہترین انداز میں پیش کرنے کا موقع ملا اس بریفنگ میں میرے سمیت مجیب الرحمٰن شامی، عثمان شامی اور سلمان کے علاوہ شعیب بن عزیز بھی موجود تھے۔

جس خوش اسلوبی سے یہ بریفنگ دی گئی اور ادارے کے تمام شعبوں کی کارکردگی کے علاوہ نئے بنائے گئے شعبہ جات سے آگاہی میسر آئی وہ اپنی مثال آپ ہے۔

مستنصر فیروز 35ویں کامن کے ہیں۔ لاہور میں CTO چیف ٹریفک افسر کے طور پر کافی مشہور رہے۔

یوں تو اے آئی نے دنیا بھر میں انقلاب برپا کر رکھا ہے مگر جرائم کی روک تھام میں یہ کس طرح معاون ریفک حادثات کا ڈیٹا اس کی روک تھام ہی محض سیف سٹی کا کام نہیں، اس کے درج ذیل اقدامات نے آنکھیں روشن کر دیں۔

2016ء میں بننے والے اس ادارے کو اس وقت کے متحرک ترین وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے کرائم کنٹرول اور قانون کی عملداری کے لئے یہ شعبہ قائم کیا، جسے انتہائی تعلیم یافتہ افسران میسر آئے تکنیکی ماہرین اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اس کی پرائیویسی اور ہیک نہ ہونے کے لئے بھرپور اقدامات کئے گئے یہ ایک شاندار منصوبہ ہے جسے موجودہ وزیراعلیٰ مریم شریف نے مزید شعبے قائم کرکے بام عروج پر پہنچا دیا ہے، ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن کا قیام جس کا نام "میری آواز" رکھا گیا کا افتتاح 22اپریل 2022ء کو محترمہ نے کیا۔

اس میں خصوصی طور پر آئی ٹی گریجویٹ خواتین کو تعینات کیا گیا اس کا سسٹم اتنا سادہ ہے کہ خواتین ا پنے ساتھ ہونے والے کسی بھی مسئلے کا تدارک 15 ملا کر مزید (2) دو دبا کر سکتے ہیں۔ اس طرح بغیر تھانے کے چکر لگا ان کی شنوائی ہو جاتی ہے ان کی معلومات کو خفیہ راز میں رکھا جاتا ہے۔ مستنصر فیروز نے بتایا کہ امتحانی مراکز میں کس طرح ایک لڑکی کی کال سے پورا ہراسمنٹ کا سسٹم پکڑا گیا، بچیاں کیونکہ شرم اور خوف کے مارے زبان نہیں کھولتیں جس سے معاشرے کے بدکار افراد شہ پکڑتے ہیں مگر رازداری نے خواتین کا یہ مسئلہ بھی حل کر دیا ہے۔

اس کے باوجود کرائم ریٹ میں مستنصر فیروز نے بتایا کہ وائیولنس کا سب سے بڑا حصہ ڈومیٹک وایولینس کا ہے جو کہ یہاں کے مردوں کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے دکھ کی بات یہ کہ اس کا کوئی تدارک بھی نہیں خواتین اور بچے اس تشدد کو محض اقتصادی مجبوری کی وجہ سے برداشت کرتے ہیں بچے اپنی ماں کو پٹتا دیکھ کر خود بھی ذہنی مریض ہو جاتے ہیں اور یوں یہ تشدد کا سلسلہ نسل درنسل چلتا ہے۔

ورچوئل سینٹر چائلڈ سیفٹی کے تحت گمشدہ بچوں جن میں سپیشل بچے بھی شامل ہیں اور ایگزامنرکے مریض بزرگوں کو 15 کال کرکے(3) تین دبانے پر ادارہ فوری حرکت میں آجاتا ہے روزانہ بنیاد پر سینکڑوں بچے گم اور بیسیوں ملتے ہیں اولڈ ہوم چائلڈ پروٹیکشن اور دیگر ادارے معاونت کرتے ہیں جبکہ یتیم خانے بوجوہ اپنی مالیاتی مفاد ڈیٹا دینے سے گریز کرتے ہیں۔

بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات محض مخصوص گمنام علاقوں، مزاروں اور فقیروں کے بھیس ہی میں نہیں ہوتے بلکہ بچوں کے کرائم اور پورنو گرافی میں بھارت پہلے فلپائن دوسرے اور پاکستان تیسرے نمبر پر ہے جی ہاں یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے بچوں کو اس ضمیر کش آمدن سے تعلیم دلاتے ہیں بڑے بڑے گھر بناتے ہیں دنیا بھر میں جو بچوں کا استحصال ہو رہا ہے اس کے ضمن میں سی سی ڈی کو اور بھی متحرک ہونے کی ضرورت ہے افسوسناک امر یہ ہے کہ آئی پی ایڈریس پکڑے جانے کے بعد دنیا بھر کے جنسی ذہنی مرضوں کو فراہم کی جانے والی اس تفریح اور اس کے سہولت کار اس لئے نہیں پکڑے جاتے کہ یہ صوبائی قانون کا حصہ نہیں ابھی قانون میں مزید تبدیلیاں متقاضی ہیں کہ جرائم کے اس نازک ترین حصے پر کاری وار کیا جائے اور تمام جنسی مریضوں کو "تلف" کر دیا جائے سزا کے بغیر جرائم کی روک تھام ناممکن ہے۔

ہم نے خصوصی طور پر "ای چالان" والا شعبہ دیکھا بچیوں سے ریکوئسٹ بھی کی کہ مجھے اتنے ای چالان نہ بھیجا کریں مگر سسٹم ایسا شاندار تھا کہ طبیعت خوش ہوگئی چالان کی بھاری رقم ہی ہمیں تیز رفتاری سے روکتی ہے وگرنہ نہ تو یہاں ہر کوئی اپنی سلطنت کا خود ہی بادشاہ بنا بیٹھا ہے۔

انسان کے اندر تکبر اس قدر تیزی سے سرایت کرتا ہے کہ اسے پتہ ہی نہیں چلتا وہ کب بندے سے فرعون بننا ادب لحاظ معاشرے اور مذہب ثقافت کی کاٹھیاں اتار کر جانور بن جاتا ہے۔ ابناء میلٹی کی طرف اس قدر رحجان انتہائی منتشر خیالی اور منفی رویوں کو جنم دیتا ہے۔

ایک کارنامہ ورچوئل بلڈ بیک کا ہے جو 15پر کال ملا کر 4 دبانے سے بلڈ ڈونرز سے رابطہ ہو جاتا ہے ڈونرز رجسٹرڈ ہیں۔

مجھے ذاتی طور پر سب سے زیادہ خوشی "پنک بٹن" کی ہوئی جو 39 خواتین کالجز اور یونیورسٹیوں میں تنصیب ہو چکا اور مرحلہ وار پنجاب کے 450 کالجز میں تنصیب ہو رہا ہے جسے کوئی بھی طالبہ غیر معمولی صورت حال میں دبا کر براہ راست سیف سٹی کے کنٹرول روم تک رسائی حاصل کر سکتی ہے فوری تدارک ہوتا ہے۔ بے تحاشہ اقدامات میں یہی توقع یہ کہ ڈومیسٹک وایویشن ختم کرنے کے لئے ہر گھر نہیں تو علاقے میں یہ بٹن ضرور ہونا چاہئے۔

مریم نواز نے غلط نہیں کہا تھا کہ خواتین اس کی "ریڈ لائن" ہیں تنقید کرنے والے رضائی سے نکل کر جاکر سیف سٹی کے اقدامات دیکھیں اور شرم سے ڈوب مریں۔

اس ساری ملاقات میں اہم کردار سیف سٹی کے انتہائی بااخلاق ڈی پی آر ظفر حسین قریشی کا ہے جنہوں نے بطور خاص اہتمام کیا ہمیں اپنے سیف سٹی کے افسران پر فخر محسوس ہوا۔

کئی جرائم ابھی تحریر اور قانون میں نہیں آئے جس کے لئے صرف اشعار خود کہنا پڑتے ہیں۔ ان کا ذکر میرے ذیل کے دو اشعار

دیکھ لے پہلے سے کہہ رکھا ہے ایسا ہوگا
تو جو نکلے گا مرے دل سے تماشا ہوگا

ہر جواب رخ پہ تکبر کو لئے پھرتے ہو
تجھ کو معلوم نہیں ساتھ ترے کیا ہوگا

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais