Saturday, 23 May 2026
  1. Home/
  2. Syed Badar Saeed/
  3. Artificial Intelligence Aur Pakistani Nojawano Ka Mustaqbil

Artificial Intelligence Aur Pakistani Nojawano Ka Mustaqbil

چوتھے صنعتی انقلاب کا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہو چکا ہے۔ اس انقلاب کا نام آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ہے۔ چند سال قبل تک جس ٹیکنالوجی کو محض سائنس فکشن فلموں کا حصہ سمجھا جاتا تھا وہ آج ہمارے سمارٹ فونز، دفاتر، تعلیمی اداروں اور سب سے بڑھ کر روزگار کی مارکیٹ پر حکمرانی کر رہی ہے۔ دنیا بھر میں یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ کیا اے آئی انسانوں کی جگہ لے لے گی؟

انٹرنیشنل رپورٹس اور تجزیے بتاتے ہیں کہ اے آئی انسان کو بے روزگار نہیں کرے گی بلکہ اے آئی کا استعمال جاننے والا انسان اے آئی سے ناواقف انسان کی جگہ ضرور لے لے گا۔ پاکستان میں 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہاں یہ تبدیلی محض جدت کی علامت نہیں بلکہ ہماری معاشی بقا اور ترقی کا راستہ بھی ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی ایک رپورٹ کے مطابق اے آئی اور آٹومیشن کے باعث دنیا بھر میں ساڑھے آٹھ کروڑ نوکریاں ختم ہونے کا خدشہ ہے لیکن اس کے ساتھ ہی 9 کروڑ 7 لاکھ نئی نوکریاں اور نئے شعبے بھی جنم لے رہے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ روایتی کام کرنے کے طریقے تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور جدید مہارتوں کی طلب میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے۔ مائیکروسافٹ اور اوپن اے آئی کے حالیہ سروے بتاتے ہیں کہ دنیا کی 75 فیصد سے زائد کمپنیاں اب ایسے ملازمین کو ترجیح دے رہی ہیں جنہیں اے آئی ٹولز کا بنیادی استعمال آتا ہو۔ جب عالمی مارکیٹ کا ڈھانچہ اتنی تیزی سے بدل رہا ہو تو پاکستانی نوجوان روایتی تعلیم اور پرانے نصاب کے سہارے اس دوڑ کا حصہ نہیں رہ سکیں گے۔

پاکستانی نوجوانوں کے لیے اے آئی کی ضرورت اور اہمیت اس لیے بھی دگنی ہے کہ ہمارے ہاں معاشی دباؤ بہت زیادہ جبکہ روزگار کے مواقعوں کی شدید کمی ہے۔ ماضی میں فری لانسنگ کے روایتی شعبوں مثلاََ عام ڈیٹا انٹری، سادہ گرافک ڈیزائننگ یا بنیادی کنٹینٹ رائٹنگ سے نوجوان چند سو ڈالرز کما لیتے تھے لیکن اب وہ مارکیٹ سکڑ رہی ہے کیونکہ یہ کام چیٹ جی پی ٹی، مڈجرنی اور کینوا جیسے ٹولز چند سیکنڈز میں کر دیتے ہیں۔ تاہم اس چیلنج کے اندر ہی سب سے بڑا موقع چھپا ہے۔ اگر ہمارے نوجوان خود کو آپ گریڈ کریں اور اے آئی ٹولز کے "صارف" بننے کے بجائے ان کے "ماسٹر" بن جائیں تو کمائی کے امکانات لاامتناہی ہیں۔

آج اے آئی کی مدد سے روزگار کے حصول کے درجنوں نئے راستے کھل چکے ہیں۔ وہ نوجوان جو کمپیوٹر پروگرامنگ اور کوڈنگ نہیں جانتے وہ بھی اب پرمپٹ انجینئرنگ سیکھ کر بہترین روزگار کما رہے ہیں۔ پرامپٹ انجینئرنگ وہ شعبہ ہے جس میں اے آئی سے درست کام لینے کا فن سکھایا جاتا ہے۔ اسی طرح اے آئی ڈیٹا اینالسٹ، اے آئی کنٹینٹ ایڈیٹر اور مختلف کمپنیوں کے لیے اے آئی ماڈلز کو ٹرین کرنے کی نوکریاں بین الاقوامی فری لانسنگ پلیٹ فارمز پر اس وقت ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق جو نوجوان اے آئی ٹولز کا درست استعمال سیکھ کر گلوبل مارکیٹ میں کام کر رہے ہیں وہ عام فری لانسرز کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ تیز رفتاری اور بہتر کوالٹی کے ساتھ کلائنٹس کو کام ڈیلیور کر رہے ہیں جس سے ان کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمیں قومی سطح پر چند بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اپنے تعلیمی اداروں اور خصوصاً یونیورسٹیز کے مائنڈ سیٹ کو بدلنا ہوگا۔ ڈگریوں میں چار سال صرف کرنے کے بعد جب طالب علم مارکیٹ میں آتا ہے تو اسے پتا چلتا ہے کہ جو کچھ اس نے پڑھا وہ اب آؤٹ ڈیٹڈ ہو چکا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی سطح سے ہی شارٹ کورسز اور بوٹ کیمپس کے ذریعے نوجوانوں کو اے آئی ٹولز سے متعارف کروایا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ آئی ٹی سیکٹر کو پابندیوں کے جال سے نکالے، تیز ترین انٹرنیٹ کی فراہمی یقینی بنائے اور اے آئی اسٹارٹ اپس کے لیے آسانیاں پیدا کرے تاکہ ہمارے نوجوانوں کو کام کرنے کے لیے دبئی یا یورپ کا رخ نہ کرنا پڑے۔ مجموعی طور پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک ایسا خلائی جہاز ہے جو انہیں معاشی پسماندگی کی زمین سے اٹھا کر گلوبل ڈیجیٹل اکانومی کے آسمان تک لے جا سکتا ہے۔

یہ وقت مایوس ہو کر بیٹھنے کا نہیں بلکہ خود کو نئے دور کے مطابق ڈھالنے کا ہے۔ اگر ہمارے نوجوانوں نے جدید ٹیکنالوجی کی اس لہر کو بروقت پکڑ لیا تو وہ نہ صرف ذاتی طور پر خوشحال ہوں گے بلکہ پاکستان کے لیے وہ قیمتی زرِ مبادلہ بھی کما سکیں گے جس کی ملک کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یاد رکھیں کہ سکرینیں بدل رہی ہیں اور دنیا تیزی سے تبدیل رہی ہے۔ یہی وقت ہے کہ ہم بھی اپنا مائنڈ سیٹ بدل لیں۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais