جب دنیا میں کوئی نئی ٹیکنالوجی قدم رکھتی ہے تو انسان کی پہلی پریشانی یہی ہوتی ہے کہ اب اس کی روٹی روزی کا کیا بنے گا۔ کچھ عرصے سے ہمارے اردگرد بھی ایسا ہی شور برپا ہے جہاں ہر دوسرا شخص یہ کہتا دکھائی دیتا ہے کہ اگلے دس سال میں انسانوں کا کام ختم ہو جائے گا اور مشینیں ہر چیز پر قابض ہو جائیں گی۔ سوشل میڈیا پر نظر دوڑائیں تو لگتا ہے جیسے کل صبح اٹھ کر انسان کو دفتر جانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی کیونکہ اس کی کرسی پر کوئی روبوٹ بیٹھ چکا ہوگا۔ اس خوف کو ہوا دینے میں سیلیکون ویلی کے ان ارب پتیوں کا بھی ہاتھ ہے جو بات کو ذرا زیادہ ہی رنگین بنا کر پیش کرنے کے عادی ہیں۔ ایلون مسک جیسے لوگ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہیومنائیڈ روبوٹس ہر طرف پھیل جائیں گے اور انسان کے لیے کام کرنا ایک شوق بن کر رہ جائے گا اور حکومتیں گھر بیٹھے وظیفے بانٹیں گی۔
سننے کی حد تک یہ باتیں کسی سائنس فکشن فلم کی کہانی جیسی لگتی ہیں مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی سچ یہی ہے؟ اگر ہم جذباتی ہونے اور ڈرنے کے بجائے ہوش کے ناخن لیں تو تصویر اتنی بھیانک نہیں جتنی بتائی جا رہی ہے۔ ایلون مسک بڑے دماغ والے کاروباری آدمی ضرور ہیں لیکن ماضی گواہ ہے کہ وہ وقت کا حساب لگانے میں اکثر مار کھا جاتے ہیں۔ ان کی پرانی پیشگوئیاں اٹھا کر دیکھ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جس چیز کے لیے دو سال کہتے ہیں اسے حقیقت بننے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ اربوں روبوٹس بنا کر دنیا کی فیکٹریوں اور دفاتر میں کھڑا کر دینا بچوں کا کھیل نہیں۔ اس کے لیے درکار بیٹریاں، جدید ترین چپس اور فیکٹریاں راتوں رات آسمان سے نہیں گر سکتیں۔ دنیا کے پاس فی الحال اتنا سازوسامان اور خام مال ہی نہیں ہے کہ وہ اتنی جلدی پوری دنیا کی افرادی قوت کا متبادل تیار کر لے۔
کچھ ایسا ہی معاملہ اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین اور بل گیٹس کے بیانات کے ساتھ بھی ہوا ہے جنہیں آدھا سچ بنا کر اچھالا گیا۔ سیم آلٹمین نے جب یہ کہا کہ ذہانت آنے والے دنوں میں بجلی کی طرح ہر جگہ دستیاب اور سستی ہو جائے گی تو ان کا مقصد یہ ہرگز نہیں تھا کہ انسان کی عقل اب کوڑے دان میں پھینکنے کے لائق رہ گئی ہے۔ ان کی سیدھی بات یہ تھی کہ جو پیچیدہ حساب کتاب یا دفتری تحقیق مہینوں میں نمٹتی تھی وہ اب چند سیکنڈ میں ہو جائے گی تاکہ انسان کا قیمتی وقت بچے اور وہ کوئی بڑا فیصلہ کر سکے۔ بل گیٹس تو شروع دن سے یہی سمجھا رہے ہیں کہ کمپیوٹر ہو یا کوئی جدید پروگرام یہ سب انسان کے ہاتھ میں قلم یا اوزار کی مانند ہیں۔ ڈاکٹر، وکیل، استاد یا کسی ادارے کا مینیجر اپنی جگہ قائم رہے گا کیونکہ مشین کبھی مریض کی آنکھوں کا درد نہیں سمجھ سکتی اور نہ ہی کمرہ عدالت میں اخلاقی باریکیوں کو تول سکتی ہے۔ وہ صرف فائلیں کھنگالنے اور معاونت فراہم کرنے کی حد تک ہی کارآمد رہے گی۔
جو لوگ وائٹ کالر ملازمتوں یعنی دفتری نوکریوں کے جنازے کی خبریں سنا رہے ہیں انہیں معیشت کے عالمی اعداد و شمار ضرور پڑھنے چاہئیں۔ ورلڈ اکنامک فورم کے سنجیدہ جائزے بتاتے ہیں کہ اگر آنے والے پانچ سے دس برس میں پرانے طور طریقے والی آٹھ سے نو کروڑ نوکریاں ختم ہوں گی تو ساتھ ہی چودہ سے سترہ کروڑ نئے روزگار بھی پیدا ہوں گے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو دنیا نوکریوں کی کمی کا شکار نہیں ہو رہی بلکہ سات سے آٹھ کروڑ اضافی روزگار کی راہیں کھل رہی ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب دنیا نے ایسا تماشا دیکھا ہو۔ جب کتابیں چھاپنے کی مشین بنی تو کاتبوں نے دہائی دی کہ علم اور روزگار دونوں مٹ جائیں گے۔ بھاپ کے انجن نے جنم لیا تو تانگے اور گھوڑے چلانے والوں نے ہڑتالیں کیں کہ انسان بھوکا مر جائے گا۔ جب کمپیوٹر دفاتر کی میزوں پر سجے تو سرکاری بابوؤں نے قلم چھوڑ کر واویلا مچایا کہ اب انسانوں کو کون پوچھے گا۔ نتیجہ کیا نکلا؟ ہر انقلاب نے اکتا دینے والے اور گھسے پٹے کام ختم کر دیے لیکن ان کی جگہ انسان کے لیے ایسی ان گنت راہیں بھی کھول دیں جن کا پہلے تصور بھی ممکن نہ تھا۔
اصل رونا نوکریوں کے ختم ہونے کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ جو کام ہم جانتے ہیں وہ تیزی سے بے کار ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر کے معاشی اداروں کا اندازہ ہے کہ اگلے چند سالوں میں چالیس فیصد پرانی صلاحیتیں بالکل متروک ہو جائیں گی۔ ہمارے ہاں رٹے لگوا کر اور موٹی موٹی کتابیں حفظ کروا کر جو ڈگریاں بانٹی جاتی ہیں وہ اب نوکری کی ضمانت نہیں رہیں۔ اگر کسی طالب علم کے پاس بدلتے حالات کو سمجھنے کی فہم نہیں اور وہ صرف لکیر کا فقیر بن کر ایک ہی ڈگر پر چلنا جانتا ہے تو اس کے ہاتھ میں موجود ڈگری کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہیں۔ بڑی تحقیقی کمپنیوں کا مشاہدہ ہے کہ جن اداروں اور ورکرز نے نئے ڈیجیٹل ٹولز کو خوش دلی سے اپنایا ہے ان کا کام نہ صرف چالیس فیصد تیز ہوا ہے بلکہ ان کی آمدنی میں بھی واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اس پورے منظر نامے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان کو اپنی جگہ خود بنانی پڑتی ہے۔ جو ملازم روزانہ محض رجسٹر پر حاضری لگا کر فائلیں ادھر سے ادھر سرکانے کا عادی ہے یا جس کا سارا کام انٹرنیٹ سے دیکھ کر ڈیٹا کاپی پیسٹ کرنا ہے اس کا مستقبل واقعی خطرے میں ہے۔ ایسے یکتا اور مشینی کاموں کے لیے اب کسی انسان کو ماہانہ تنخواہ دینے کی ضرورت نہیں رہے گی لیکن اس کے برعکس جو شخص اپنے دماغ کا استعمال جانتا ہے، جس کے اندر مسائل کی جڑ تک پہنچنے کی بصیرت ہے اور جو دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا سلیقہ جانتا ہے اس کا کوئی متبادل نہیں۔ نئی صلاحیتیں سیکھنا اور خود کو تازہ دم رکھنا اب فیشن نہیں رہا بلکہ ہر پیشہ ور شخص کی مجبوری بن چکا ہے۔
خوف پھیلانے والے اس لیے کامیاب ہو جاتے ہیں کہ انسان فطری طور پر انجانی تبدیلی سے گھبراتا ہے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ہر تکنیکی لہر پرانے انداز تو بہا لے جاتی ہے لیکن اپنے پیچھے زرخیز زمین بھی چھوڑ جاتی ہے جہاں نئے بیج بوئے جا سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خوف کی چادر اوڑھ کر کونے میں بیٹھنے کے بجائے اپنی کمزوریوں کو دور کریں اور دیکھیں کہ ہم اپنے شعبے میں اور کیا نیا اور بہتر کر سکتے ہیں۔ گھبرانے کی قطعی ضرورت نہیں کیونکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس بذاتِ خود چل کر کسی کی روزی روٹی چھیننے نہیں آ رہی۔ خطرہ صرف اس بات سے ہے کہ جو انسان ان نئے اوزاروں کا ہنر سیکھ لے گا وہ اس بندے کی جگہ سنبھال لے گا جو ضد باندھ کر بیٹھ گیا تھا کہ وہ وقت کے ساتھ خود کو نہیں بدلے گا۔