Friday, 30 October 2026
  1. Home/
  2. Syed Badar Saeed/
  3. Juraim Ki Shara Manfi? Lahore Police Chief Ka Dawa

Juraim Ki Shara Manfi? Lahore Police Chief Ka Dawa

کیپٹل سٹی پولیس چیف بلال صدیق کمیانہ لاہور پریس کلب کے پروگرام "میٹ دا پریس" میں تھے۔ ان کے دائیں بائیں لاہور کے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اور ڈی آئی جی آپریشنز بھی موجود تھے یعنی سادہ الفاظ میں لاہور پولیس کی کمانڈ میڈیا کے سامنے بیٹھے تھے۔ سی سی پی او لاہور پر اعتماد انداز میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ ان کا لاہور پریس کلب آنا اس لیے بھی اہمیت کا حامل تھا کہ اس سے قبل کئی ماہ تک لاہور کے کرائم رپورٹرز اور لاہور پولیس کے درمیان تناو کی کیفیت رہی ہے۔ اب لاہور پولیس کے چیف کا پریس کلب آنا یہ واضح کرتا ہے برف پگھل چکی ہے۔

لاہور پولیس کے چیف کہہ رہے تھے کہ پولیس اور صحافت کا رشتہ کوئی عارضی تعلق نہیں بلکہ یہ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ پولیس ہو یا میڈیا خبر کو دبانا یا چھپانا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اگر کوئی وقوعہ ہوا ہے تو وہ سامنے آنا چاہیے مگر اصل ذمہ داری یہ ہے کہ واقعے کو رپورٹ کرنے سے پہلے اس کے حقائق کی مکمل تصدیق کی جائے۔ سنسنی خیزی کی دوڑ میں بسا اوقات ایسی غلط یا غیر مصدقہ خبریں اچھال دی جاتی ہیں جن کا براہ راست منفی اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔

بلال صدیق کمیانہ نے پریس کلب کے ہال میں موجود صحافیوں کو یاد دلایا کہ ان کا اس شہر سے تعلق نیا نہیں۔ وہ پچھلے تیس برس کے دوران مختلف عہدوں اور حوالوں سے لاہور میں سروس کرتے رہے ہیں اس لیے انہیں یہاں کے سماجی رویوں اور جرائم کے بدلتے انداز کا گہرا ادراک ہے۔ اس موقع پر لاہور میں جرائم کی صورت حال پر بھی گفتگو ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران دارالحکومت میں امن و امان کی جو فضا قائم ہوئی اور جس طرح منظم جرائم پر قابو پایا گیا اس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم زبانی دعووں پر یقین نہیں رکھتے بلکہ پولیس کی کارکردگی کا پیمانہ ایمرجنسی ون فائیو کی کالز اور سنگین جرائم کے باقاعدہ اعداد و شمار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور ایک محفوظ شہر ہے اور ہم اس بات کو ہر قیمت پر یقینی بنا رہے ہیں کہ یہاں کسی بھتہ خور یا بدمعاش کا کوئی راج نہ چل سکے۔ شہریوں کا جان و مال محفوظ رہے تبھی کاروبار زندگی رواں دواں رہتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی واضح ہدایات ہیں کہ خواتین اور بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم بالکل ریڈ لائن ہیں جن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پولیس کی مجموعی کارکردگی کو ہمیشہ سنگین نوعیت کے جرائم مثلاً قتل، ڈکیتی اور موٹر سائیکل چھیننے جیسے واقعات سے پرکھا جاتا ہے کیونکہ یہی وہ وارداتیں ہیں جو عام آدمی کی روزمرہ زندگی کو خوف میں مبتلا کرتی ہیں۔

اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ٹھوس منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اب لاہور میں قتل کی وارداتوں میں نو فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی طرح ڈکیتیوں میں منفی چوالیس فیصد اور راہزنی کے واقعات میں منفی چھیاسٹھ فیصد کی غیر معمولی گراوٹ دیکھی گئی ہے جو بتاتی ہے کہ گشت اور آپریشنل حکمت عملی درست سمت میں کام کر رہی ہے۔ عدالتی اور قانونی نظام کو فعال رکھنے کی بات کرتے ہوئے سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ کہہ رہے تھے کہ گزشتہ تین سال کے دوران لاہور پولیس نے لگ بھگ دس لاکھ زیر التوا مقدمات کو قانون کے مطابق ڈسپوز آف کیا تاکہ تفتیش کے معاملات بروقت نمٹ سکیں۔

جرائم پیشہ افراد کے نیٹ ورک توڑنے کے حوالے سے بھی تفصیلی بات ہوئی۔ پریس کلب میں بیٹھے صحافیوں کے سامنے انہوں نے بتایا کہ اب تک چوبیس سو سے زائد منظم گینگز کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور صرف گزشتہ ایک سال کے عرصے میں وارداتوں کے دوران لوٹا گیا ایک ارب اکیاون کروڑ روپے کا مال مسروقہ برآمد کرکے اصل مالکان کے حوالے کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سماج دشمن عناصر کی گرفتاری کے لیے شروع کی گئی مہم کے دوران چودہ ہزار سے زائد بی کیٹگری جبکہ پینسٹھ سو سے زائد اے کیٹگری کے خطرناک اشتہاری ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا گیا۔

وہ مزید بتا رہے تھے کہ نوجوان نسل کو نشے کی دلدل سے نکالنے کے لیے منشیات فروشوں کے خلاف بڑا کریک ڈاون کیا گیا جس میں سوا چھ ہزار افراد کو حراست میں لے کر جیلوں میں بھیجا گیا۔ سی سی پی او نے ایک انتہائی حساس اور اہم مسئلے کی طرف بھی توجہ دلائی جو جھوٹے مقدمات سے جڑا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین کے اغوا اور دیگر دفعات کے غلط استعمال کا رجحان تشویشناک حد تک دیکھا گیا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دفعہ365 کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں سے 2024 میں 94 فیصد جبکہ 2025 میں 95 فیصد اور 2026 میں اب تک 84 فیصد کیسز تفتیش کے دوران جھوٹے ثابت ہو کر خارج ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ خواتین سے متعلق من گھڑت الزامات لگا کر مخالفین پر جھوٹے پرچے درج کرائیں گے ان کے خلاف اینٹی ریپ ایکٹ اور متعلقہ قوانین کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اسی نوعیت کا ایک اور افسوسناک پہلو بچوں کا ناجائز استعمال ہے۔ پولیس سربراہ کے مطابق ذاتی رنجشوں اور خاندانی دشمنیوں میں مخالف کو نیچا دکھانے کے لیے معصوم بچوں کو استعمال کرنے کی بھیانک روایات دیکھنے میں آئی ہیں۔ جب میرٹ پر تفتیش کی گئی تو بچوں سے متعلق درج کرائے گئے 91 فیصد مقدمات بے بنیاد نکلے اور پولیس نے انہیں خارج کرکے معصوم لوگوں کو ناحق قید سے بچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کا کام صرف پرچہ کاٹنا نہیں بلکہ حقائق کی تہہ تک پہنچ کر بے گناہ کو انصاف دلانا بھی ہے۔

محکمانہ احتساب اور شفافیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بدعنوانی پر کوئی رعایت نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ کی واضح پالیسی ہے کہ کرپشن کے معاملے پر زیرو ٹالرنس کو برقرار رکھا جائے۔ اس مقصد کے لیے اینٹی کرپشن کا ادارہ اپنا قانونی کردار ادا کر رہا ہے لیکن لاہور پولیس اپنے طور پر بھی سخت اندرونی خود احتسابی کا ایک متحرک نظام چلا رہی ہے تاکہ اختیارات کا غلط استعمال کرنے والے اہلکاروں کو بلا امتیاز سزائیں دی جا سکیں۔ سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ بتا رہے تھے کہ جب تک انصاف کی فراہمی میں دیانت داری اور میڈیا کی طرف سے حقائق پر مبنی رپورٹنگ ساتھ ساتھ نہیں چلیں گی تب تک معاشرے کو خوف کے سائے سے آزاد نہیں کرایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اپنے حصے کا فرض نبھاتی رہے گی اور لاہور کے باسیوں کو اپنے شہر میں تحفظ کا بھرپور احساس دلاتی رہے گی۔

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui