Saturday, 01 August 2026
  1. Home/
  2. Syed Badar Saeed/
  3. Kya Insan Berozgar Ho Jaye Ga?

Kya Insan Berozgar Ho Jaye Ga?

ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) نے آج پوری دنیا کے مفکرین، سائنسدانوں اور ماہرینِ معیشت کو گہری سوچ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس موضوع پر جب بھی بحث ہوتی ہے تو ایک نام سب سے نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے اور وہ نام ہے ایلون مسک۔ ٹیسلا اور سپیس ایکس جیسی انقلابی کمپنیوں کے بانی ایلون مسک نے مستقبلِ انسانیت، معیشت اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے جو نظریات پیش کیے ہیں انہوں نے روایتی سوچ کے حامل افراد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان کے مطابق، آنے والا کل آج سے بالکل مختلف ہوگا جہاں نہ صرف روزگار کی تعریف بدل جائے گی بلکہ دولت، وسائل اور معیشت کے وہ تمام بنیادی اصول بھی تاریخ کا حصہ بن جائیں گے جن پر صدیوں سے دنیا کا نظام چل رہا ہے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس وقت انسانیت تاریخ کے سب سے اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ مصنوعی جنرل انٹیلی جنس (AGI) اور روبوٹکس اب محض سائنس فکشن کی کہانیاں نہیں رہیں بلکہ یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب برپا کرنے والی ہیں۔ ایلون مسک کی پیشگوئیوں کے مطابق اگلے چند برس میں مصنوعی ذہانت نہ صرف تمام شعبوں میں انسانوں کی صلاحیتوں کا احاطہ کر لے گی بلکہ بعض امور میں یہ انسانی عقل کو بھی پیچھے چھوڑ دے گی۔ اس تکنیکی انقلاب کے سب سے گہرے اثرات ہماری معیشت اور روزگار کے ڈھانچے پر مرتب ہوں گے۔ جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ مستقبل میں کون سی ملازمتیں باقی رہیں گی اور کون سی ختم ہو جائیں گی تو ایک انتہائی چونکا دینے والی تصویر سامنے آتی ہے۔

مسک کے نزدیک سب سے پہلے وہ تمام روایتی ملازمتیں ختم ہوں گی جن میں جسمانی محنت یا بار بار دہرائے جانے والے دفتری کام شامل ہیں۔ اس میں سرفہرست ٹرانسپورٹ اور ڈرائیونگ کا شعبہ ہے۔ سیلف ڈرائیونگ کاریں اور خودکار ٹرکنگ سسٹمز جب مکمل طور پر سڑکوں کا حصہ بنیں گے تو دنیا بھر کے کروڑوں ٹیکسی ڈرائیورز، ٹرک ڈرائیورز اور ڈلیوری کا کام کرنے والے افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔

اس کے بعد مینوفیکچرنگ اور فیکٹریوں کا نظام آتا ہے جہاں انسانوں کی جگہ ٹیسلا کے آپٹیمس، جیسے ہیومنائڈ روبوٹس لے لیں گے۔ یہ روبوٹس تھکتے ہیں نہ شکایت کرتے ہیں اور نہ ہی ان سے کوئی غلطی سرزد ہوتی ہے۔ یہ چوبیس گھنٹے مسلسل کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آنے والے وقت میں ہسپتالوں کے آپریشن تھیٹرز میں بھی یہی روبوٹس بطور سرجن فرائض انجام دیتے نظر آئیں گے۔ یہی حال دفتری امور کا ہے۔ ڈیٹا انٹری، اکاونٹنگ، کسٹمر سروس کال سینٹرز، ابتدائی درجے کی کوڈنگ اور عام قسم کی کاپی رائٹنگ یا ترجمہ نگاری جیسے پیشے بھی اب اے آئی کے رحم و کرم پر ہیں۔ جب سافٹ ویئر اور الگورتھمز ہر پیچیدہ کام منٹوں میں کرنے لگیں گے تو روایتی کارپوریٹ کلچر میں عام ملازمین کی ضرورت بتدریج ناپید ہو جائے گی۔

دلچسپ اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہ سارا عمل عملی طور پر شروع ہو چکا ہے۔ اگرچہ ابھی یہ عوامی سطح پر مکمل طور پر رائج نہیں ہوا۔ یہ منظرنامہ بظاہر خوفناک معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے بعد کی پیشنگوئیاں ہمیں امید اور روشن مستقبل کی نوید سناتی ہیں۔ اس حوالے سے ایلون مسک کا نظریہ روایتی معاشی نظام کی جڑیں ہلا دیتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایک ایسا دور جہاں تمام اشیا اور خدمات روبوٹس اور اے آئی کے ذریعے انتہائی کم لاگت اور وافر مقدار میں پیدا ہوں گی وہاں روایتی "دولت" کا مفہوم ہی بدل جائے گا۔ مسک کا ماننا ہے کہ جب پیداواری لاگت نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی تو دنیا سے غربت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ہر شخص کو زندگی گزارنے کے لیے تمام بنیادی سہولیات اور وسائل اتنی وافر مقدار میں ملیں گے کہ کسی کو مالی تنگی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

اس تصور کو "یونیورسل ہائی انکم" یا معاشی فراوانی کا نام دیا جا رہا ہے جہاں وسائل کی کمی کا روایتی بحران دم توڑ جائے گا اور دولت جمع کرنے کی ہوس بھی اپنے معنی کھو دے گی۔ جب مشینیں تمام معاشی نظام سنبھال لیں گی تو روایتی ڈگری سسٹمز اور نوکری کی دوڑ کی اہمیت بھی ختم ہو جائے گی۔ انسان کو وہ تمام سہولیات خود بخود میسر ہوں گی جن کے حصول کے لیے آج وہ زندگی بھر تگ و دو کرتا ہے۔ اس زبردست تبدیلی کا سب سے بڑا نفسیاتی اور سماجی اثر یہ ہوگا کہ انسانوں کے لیے "کام" کرنے کا مقصد یکسر بدل جائے گا۔

آج کے دور میں ملازمت انسان کی بقا، روٹی، کپڑا اور مکان کی اولین ضمانت ہوتی ہے اور اسی مجبوری کے تحت انسان اپنی زندگی کے قیمتی ترین سال کسی دفتر یا فیکٹری کی چار دیواری میں گزار دیتا ہے۔ لیکن مسک کے مطابق جب روبوٹس اور اے آئی انسانوں کے تمام معاشی بوجھ اٹھا لیں گے اور خودکار نظام لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کر رہے ہوں گے تو کام کرنا کوئی مجبوری نہیں رہے گا۔ مستقبل میں ملازمت یا محنت ایک "مشغلہ" یا شوق کی شکل اختیار کر جائے گی۔

لوگ صرف اس لیے کام کریں گے کیونکہ وہ اس میں قلبی دلچسپی رکھتے ہیں، اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرنا چاہتے ہیں یا کسی نئے خیال کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں۔ اس طرح انسانیت ایک بالکل نئی تخلیقی آزادی اور فکری بلندی کے دور میں داخل ہو جائے گی۔ یہ تمام وہ مکالمے اور مباحثے ہیں جو آج ڈیجیٹل دنیا کے حوالے سے عالمی سطح پر جاری ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ تبدیلی اب ناگزیر ہے اور روایتی نظام پر اصرار کرنے والے ادارے یا افراد بہت جلد وقت کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ پاکستان کا شمار ان ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے جہاں ڈیجیٹل خواندگی کی شرح کم اور معاشی چیلنجز بہت زیادہ ہیں۔

ہمارے لیے یہ صورتحال ایک طرف خطرہ ہے تو دوسری طرف ایک سنہری موقع بھی ہے۔ اگر ہم نے آج وقت کے تقاضوں کو نہ سمجھا اور اپنے تعلیمی نصاب، پیشہ ورانہ تربیت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار نہ کیا تو ہم اس عالمی تکنیکی انقلاب میں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ ہمارے نوجوانوں کو روایتی نوکریوں کی روایتی تلاش کے بجائے مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل سکلز اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا ہوگا۔ ایلون مسک کی یہ پیشین گوئیاں محض خیالی پلا یا سائنس فکشن نہیں ہیں۔

دنیا اتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے کہ وہ دن دور نہیں جب یہ تصورات ہماری روزمرہ کی حقیقت بن جائیں گے۔ مستقبل کا انسان روایتی تگ و دو، ذہنی دباو اور دفتری غلامی سے آزاد ہو کر ایک بلند تر ذہنی اور تخلیقی سطح پر زندگی گزار رہا ہوگا۔ بطور معاشرہ ہمیں اس آنے والے کل کے لیے خود کو آج ہی تیار کرنا ہوگا تاکہ ہم اس ٹیکنالوجی کے طوفان میں بہہ جانے کے بجائے اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ قدم ملانا ہی بقا کی واحد ضمانت ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں وقت کے دھارے کو بروقت سمجھ لیتی ہیں وہی دراصل مستقبل کی حکمران بنتی ہیں۔

Check Also

Heatwave Aur Tabqati Tazad: Suraj Aik, Sadme Do

By Unzila Siddiqui