Friday, 17 July 2026
  1. Home/
  2. Syed Badar Saeed/
  3. Mehkma Artificial Intelligence Ka Qayam: Taraqi Ka Naya Safar

Mehkma Artificial Intelligence Ka Qayam: Taraqi Ka Naya Safar

آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی اب محض تکنیکی اصطلاح نہیں رہی بلکہ یہ انسانی زندگی کے ہر شعبے پر اثر انداز ہونے والی ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے جس سے نظریں چرانا کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے خودکشی کے مترادف ہے۔ حال ہی میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے انتہائی اہم اور خوش آئند فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے تحت آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا ایک نیا محکمہ قائم کر دیا گیا ہے۔

یہ اقدام نہ صرف حکومتی سطح پر جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت کو تسلیم کرنے کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے سنجیدہ ہے۔ اس نئے محکمے کے قیام کے ساتھ ہی بیوروکریٹ محمد احمد کو بطور "سیکرٹری، آرٹیفیشل انٹیلی جنس" تعینات کیا گیا ہے جو اس نئی تخلیق کردہ اسامی پر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اب اے آئی کو صرف "پروجیکٹس" تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ اسے انتظامی ڈھانچے کا حصہ بنانا چاہتی ہے۔

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوان آبادی کا بڑا حصہ ہیں اس لیے پاکستان میں اے آئی کا مستقبل انتہائی تابناک ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر کی معیشتیں اب ڈیٹا اور اے آئی پر منتقل ہو رہی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اے آئی کی عالمی مارکیٹ میں ہر گزرتے سال کے ساتھ اربوں ڈالر کی توسیع ہو رہی ہے۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا موقع "آوٹ سورسنگ" اور "اے آئی سروسز" کی فراہمی ہے۔ ہمارے نوجوان آئی ٹی کے شعبے میں پہلے ہی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں اور اس وقت بھی پاکستان فری لانسنگ میں دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اے آئی ٹولز کے استعمال، پرامپٹ انجینئرنگ اور ڈیٹا اینالیٹکس میں ماہر بنائیں۔ حکومتِ پنجاب کی جانب سے اے آئی کا محکمہ بنانے کا فیصلہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انتظامیہ اب اس ٹیکنالوجی کو گورننس میں شامل کرکے شفافیت اور کارکردگی کو بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے لیکن اس سفر میں چیلنجز بھی کم نہیں ہیں۔

پاکستان میں اے آئی کے کامیاب نفاذ کے لیے سب سے پہلے ہمارے تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ جب ہم اے آئی کو بطور محکمہ متعارف کرا رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ایسے ماہرین کی ضرورت ہوگی جو پالیسی سازی سے لے کر نفاذ تک کے مراحل کو سمجھ سکیں۔ محمد احمد اب اپنی اس نئی ذمہ داری کے ساتھ دیگر اداروں کے درمیان ایک بہتر ہم آہنگی پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ کوآرڈینیشن وسائل کے درست استعمال اور اے آئی پر مبنی پالیسیوں کو ریسورس مینجمنٹ کے ساتھ جوڑنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی امید کی جا رہی ہے کہ محکمہ پولیس، محکمہ تعلیم، محکمہ صحت اور دیگر محکموں کی طرح محکمہ اے آئی بھی پنجاب کے تمام اضلاع کی نہیں تحصیل کی سطح تک اپنا نیٹ ورک پھیلائے گا جس سے اے آئی بیسڈ ہزاروں نئی ملازمتیں اور شعبے جنم لیں گے۔

یہ بھی امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل کا پاکستان ایک ایسا ملک ہونا چاہیے جہاں اے آئی کا استعمال صرف چیٹ جی پی ٹی تک محدود نہ ہو بلکہ زراعت، صحت، تعلیم اور عدالتی نظام میں اس کا عملی اطلاق ہو۔ مثال کے طور پر اے آئی کے ذریعے زرعی پیداوار میں اضافہ، بیماریوں کی جلد تشخیص اور سرکاری دستاویزات کی ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے کرپشن کا خاتمہ ممکن ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا ڈیٹا بیسڈ اینالسز مستقبل کے اقدامات اور بحالی مشن کو مزید بہتر بنا سکتا ہے یہ نیا محکمہ اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں۔ اے آئی کے ذریعے ہم نہ صرف سرکاری اخراجات میں کمی لا سکتے ہیں بلکہ خدمات کی فراہمی میں درکار وقت کو بھی نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں اے آئی کا مستقبل درحقیقت "ڈیجیٹل خودمختاری" کے تصور سے جڑا ہوا ہے۔ اگر ہم نے وقت پر اے آئی کے لیے قانون سازی، ڈیٹا پروٹیکشن اور اخلاقی فریم ورک نہیں بنائے تو ہم عالمی سطح پر پیچھے رہ جائیں گے۔ عالمی ادارہ محنت اور دیگر تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق اگلی دہائی میں وہ ممالک ترقی کریں گے جنہوں نے اپنی افرادی قوت کو اے آئی کے لیے تیار کیا ہوگا۔ پنجاب حکومت کا یہ قدم ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اب توقع یہ ہے کہ اس محکمے کے تحت ملک بھر میں اے آئی پر مبنی ایک مربوط نیٹ ورک قائم کیا جائے گا جس میں سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

پاکستانی فری لانسر امید کر رہے ہیں کہ اے آئی کا یہ نیا محکمہ صرف ایک عہدے یا ایک عمارت کا نام نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ ایک "تھنک ٹینک" کے طور پر کام کرے۔ اسے تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر نصاب میں اے آئی کو شامل کرنا ہوگا اور صنعتوں کے ساتھ مل کر ملازمت کے نئے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔ پاکستان کا مستقبل آج ان فیصلوں پر منحصر ہے جو ہم نے ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے کیے ہیں۔ اگر ہم نے اپنے سیکرٹری اے آئی اور ان کی ٹیم کو مکمل اختیار، وسائل اور ٹیکنالوجی فراہم کی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان خطے میں اے آئی کے ایک مرکز کے طور پر ابھرے گا۔ یہ آغاز ہے لیکن دیگر صوبوں کو بھی چاہیے کہ ایسے فیصلے کرے۔ ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ یہ سفر پاکستان کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais