میٹرک کا امتحانات ہوتے ہی نجی کالجز اور اکیڈمیز نے پری کلاسز اور پلس کلاسز کے نام پر ایک نئی دوڑ کا آغاز کر دیا ہے۔ والدین کو مبارکباد کے فون کالز آ رہے ہیں۔ گلیوں اور چوراہوں پر رنگ برنگے بینرز آویزاں ہیں اور سوشل میڈیا اشتہارات سے بھرا پڑا ہے لیکن اس تمام تر شور و غل میں وہ اہم ترین آواز کہیں دب گئی ہے جسے طالب علم کی اپنی آواز اور اس کا فطری رجحان کہا جاتا ہے۔ میٹرک کا امتحان طالب علم کی زندگی کا سب سے حساس اور فیصلہ کن موڑ ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے ایک فرد کی پیشہ ورانہ شناخت کی بنیاد رکھی جانی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے نظامِ تعلیم میں اس اہم موڑ پر کیریئر کونسلنگ کا سرے سے کوئی تصور ہی موجود نہیں ہے۔ جس وقت بچے کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس کی شخصیت کے پہلو کس شعبے کے لیے موزوں ہیں، اس وقت اسے محض مارکیٹ کے رجحانات، والدین کی ادھوری خواہشات اور سماجی رتبے کی دوڑ میں جھونک دیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ وہی ہے جو ہم اپنے ارد گرد دیکھ رہے ہیں۔ آج ہمارے معاشرے میں پیشہ ورانہ عدم اطمینان کی ایسی لہر ہے جو خاموشی سے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو چاٹ رہی ہے۔
یہ درست سمت کی نشاندہی نہ ہونے کا شاخسانہ ہی ہے کہ آج ہمارے کئی باصلاحیت ڈاکٹر کلینک چھوڑ کر ٹی وی اینکر بننے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں۔ کئی ایسے اینکر ہیں جو ٹی وی سکرین پر تو مسکراتے ہیں لیکن ان کا اصل جنون بزنس مین بننا تھا۔ ایک انجینئر کو پینتیس سال کی عمر میں جا کر احساس ہوتا ہے کہ وہ تو بہت اچھا شیف بن سکتا تھا۔ سرکاری ملازمت کرنے والا افسر اپنی ریٹائرمنٹ تک یہی سوچتا رہتا ہے کہ کاش میں نے اس وقت وہ فیصلہ نہ کیا ہوتا جو مجھ سے کرایا گیا تھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایک شعبے میں کام کر رہے ہیں لیکن ان کا دل کسی اور وادی میں دھڑکتا ہے۔ وہ پیسہ تو کما لیتے ہیں لیکن ان کی زندگی سے وہ اطمینان اور جوش غائب ہے جو کسی بھی بڑے کارنامے کی بنیاد ہے۔
میں نے کئی بیوروکریٹس کو اس معاملے میں ٹھنڈی آہیں بھرتے دیکھا ہے۔ حسرت اور کاش کا یہ تکلیف دہ سفر اسی غلط فیصلے سے شروع ہوتا ہے جو میٹرک کے بعد شعور کی کمی کی وجہ سے لیا گیا تھا۔ ہمارے معاشرے میں طالب علم عموماً ایک ایسی تکون میں پھنسا ہے جس کے تینوں کونے اسے مختلف سمتوں میں کھینچ رہے ہوتے ہیں۔ اس تکون کا ایک کونا طالب علم خود ہے جو شاید آرٹسٹ بننا چاہتا ہو کیونکہ اسے رنگوں، لکیروں اور ڈیزائن سے لگن ہے۔
دوسرا کونا اس کی والدہ ہیں جن کی خواہش ہے کہ ان کا بچہ سفید کوٹ پہنے اور خاندان بھر میں ان کا سر فخر سے بلند ہو جائے۔ تیسرا کونا والد ہیں جن کا خواب ہے کہ بچہ سی ایس ایس کا امتحان دے، بیوروکریٹ بنے اور معاشرے میں طاقت و اختیار کا استعارہ بن کر ابھرے۔ اس کشمکش میں کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ بچے کی اپنی ذہنی استعداد کیا ہے؟ اس کی شخصیت کے ٹیسٹ کیا کہتے ہیں؟ کیا وہ دباؤ میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا وہ ایک پرسکون تخلیقی گوشہ تلاش کرنا چاہتا ہے؟ جب فیصلہ رجحان کے بجائے رتبے کی بنیاد پر ہوتا ہے تو ہم ایک پیشہ ور تو تیار کر لیتے ہیں مگر ایک خوش انسان کھو دیتے ہیں۔
تعلیمی اداروں کا موجودہ رویہ بھی لمحہ فکریہ ہے۔ کالجز کی جانب سے امتحانات کے فوراََ بعد کلاسز شروع کر دینا اچھا ہے لیکن اس وقت بچے کو مزید کتابیں رٹنے کی بجائے ذہنی وضاحت یعنی مینٹل کلیئرٹی کی ضرورت ہے۔ اسے ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں وہ مختلف شعبوں کے ماہرین سے مل سکے اور اسے بتایا جائے کہ آنے والی دہائیوں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیٹا سائنس اور ڈیجیٹل اکانومی دنیا کو کس طرح بدلنے والی ہیں۔ اسے سمجھایا جائے کہ اس کے حاصل کردہ نمبرز، رجحانات، پسند نا پسند اور مینٹل اپروچ کے مطابق کونسا شعبہ اس کے لیے سب سے بہتر ہوگا۔ اگر ہم آج بھی اپنے بچے کو 1990 کے معیارات پر پرکھ رہے ہیں تو ہم اسے ایک ایسی جنگ کے لیے تیار کر رہے ہیں جو اب ختم ہو چکی ہے۔
میں کئی تعلیمی اداروں کو مانیٹر کر رہا تھا۔ زیادہ تر ادارے میٹرک کے پریکٹیکلز کی فری کلاسز کروا کے طلبا کو اگلے داخلوں کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ مجھے اس سے اختلاف نہیں ہے۔ طلبا کو تیاری کروانا اچھا اقدام ہے۔ تعلیمی ادارے اسی مقصد کے لیے ہیں لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ان کی کیریئر کونسلنگ کیا ہوئی؟ اگلے روز سپیریئر کالج کی ٹاؤن شپ برانچ کے پرنسپل حافظ نواز سے طویل نشست ہوئی تو حیرت ہوئی۔ انہوں نے ایک طویل پرفارمہ سامنے رکھ دیا جو وہ طلبا سے فل کرواتے ہیں۔
اس پرفارمہ کی بنیاد پر ان کے ماہرین تعلیم اور کیریئر کونسلر طالب علم کے رجحانات کی گریڈنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے کالجز میں باقاعدہ "کیریئر کونسلنگ ڈیسک" قائم ہیں جہاں طلبا سے طویل مشاورت کرکے انہیں پروفیشنل اپروچ کے حوالے سے راہنمائی دی جاتی ہے۔ ان کے کالجز میں پریکٹیکل کلاسز کے ساتھ ساتھ میٹرک کے طلبا کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے کورسز بھی کروائے جا رہے ہیں۔ مجھے ان کا یہ ماڈل اچھا لگا۔ پاکستان میں کیریئر کونسلنگ کو باقاعدہ ادارے کی شکل دینے کی ضرورت ہے۔
ہر کالج میں ایک کیریئر کونسلنگ ڈیسک کا قیام لازمی قرار دیا جائے جہاں ماہرِ نفسیات اور تعلیمی ماہرین موجود ہوں۔ وہ ہر بچے کا انفرادی انٹرویو کریں، اس کی دلچسپیوں کا نقشہ تیار کریں اور پھر اسے بتائیں کہ تمہارے لیے میڈیکل بہتر ہے، انجینئرنگ یا فنونِ لطیفہ بہتر ہے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ قومی سطح پر ایک ہیلپ لائن اور ڈیجیٹل پورٹل قائم کرے جہاں والدین اور طلبا گھر بیٹھے مفت مشورہ لے سکیں کہ میٹرک کے نمبروں اور ذاتی رجحان کی روشنی میں کون سا راستہ بہترین ہے۔
یاد رکھیں کامیابی کا مطلب صرف پیسہ کمانا نہیں ہے بلکہ کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے کام سے پیار کرے۔ جب ایک نوجوان اپنے شوق کو اپنا پیشہ بنا لیتا ہے تو وہ صرف کام نہیں کرتا بلکہ وہ تخلیق کرتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے ایجادات اور انقلابات جنم لیتے ہیں۔ ایک غلط فیصلہ صرف ایک فرد کی زندگی برباد نہیں کرتا بلکہ ایک ممکنہ عظیم دماغ کو ضائع کر دیتا ہے۔ خدارا میٹرک کے طلبا کو لاوارث نہ چھوڑیں۔ انہیں کیریئر کونسلنگ کی سہولت مہیا کریں تاکہ وہ بہتر مستقبل کی طرف گامزن ہوں۔