آج کے پاکستان میں سب سے بڑی بے چینی محض بیروزگاری نہیں بلکہ بے یقینی ہے۔ لوگوں کو اس بات کا زیادہ خوف ہے کہ جو ملازمت آج موجود ہے وہ کل برقرار بھی رہے گی یا نہیں۔ دفاتر، کال سینٹرز، بینکوں، میڈیا ہاسز اور فیکٹریوں میں یہ سوال زبان زد عام ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی اے آئی کام کے روایتی طریقہ کار کو کس حد تک بدل دے گی؟ چند برس قبل یہ بحث مغربی دنیا تک محدود تھی مگر اب پاکستان کے متوسط گھروں، یونیورسٹیوں اور کاروباری حلقوں تک پہنچ چکی ہے۔
مسئلہ صرف ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ رفتار کا بھی ہے اور اصل سوال بھی یہی ہے کہ ہم تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کی اس رفتار کے ساتھ کہاں کھڑے ہیں؟ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح تقریباََ 6.9 فیصد ہے۔ بظاہر یہ شرح اتنی زیادہ نہیں لگتی کہ تشویش ناک حد پار کر جائے لیکن تصویر کا دوسرا رخ زیادہ پیچیدہ ہے۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان کی لگ بھگ 80 فیصد ورک فورس غیر رسمی معیشت میں کام کرتی ہے جہاں نہ مستقل کنٹریکٹ ہوتا ہے، نہ سوشل سکیورٹی اور نہ ہی روزگار کا تحفظ ہے۔
اس پس منظر کے ساتھ اگر کام کے طریقوں میں اچانک اور تیز رفتار تبدیلی آتی ہے تو اس کا اثر براہ راست ان کروڑوں افراد پر پڑے گا جو پہلے ہی معاشی عدم تحفظ کا شکار ہیں یوں بے روزگاری سے زیادہ بڑا مسئلہ روزگار کا پائیدار ہونا بن جاتا ہے۔ عالمی سطح پر بھی منظرنامہ یکساں نہیں ہے۔ ورلڈ بنک کی ساتھ ایشیا ڈیولپمنٹ اپڈیٹ 2025 کے مطابق جنوبی ایشیا میں تقریباً 7 فیصد ملازمتیں ایسی ہیں جو مکمل طور پر اے آئی کے ذریعے ختم ہو سکتی ہیں جبکہ قریباً 15 فیصد ملازمتیں ایسی ہیں جو اے آئی کے ساتھ مل کر زیادہ مؤثر بن سکتی ہیں۔
اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ معاملہ مکمل خاتمے کا نہیں بلکہ کردار کی تبدیلی کا ہے۔ جو افراد نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کر لیں گے ان کے لیے مواقع بڑھ سکتے ہیں لیکن جو پیچھے رہ جائیں گے ان کے لیے مشکلات مزید بڑھیں گی۔ ملکی سطح پر بھی بعض تحقیقی اداروں کے اندازوں کے مطابق تقریباََ 17 فیصد ملازمتیں "ہائی رسک" کے زمرے میں آ سکتی ہیں خاص طور پر وہ کام جن میں دہرایا جانے والا کام، ڈیٹا انٹری یا بنیادی نوعیت کا تجزیاتی عمل شامل ہو۔ اسی طرح کال سینٹرز میں
چیٹ بوٹس کا بڑھتا استعمال، اکائونٹنگ میں آٹومیشن سافٹ ویئرز اور میڈیا انڈسٹری میں بنیادی خبر نویسی یا گرافک ڈیزائن کے کچھ حصوں کا خودکار سسٹم کے ذریعے انجام دیا جانا اسی رجحان کی مثالیں ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی ٹولز پیداواری صلاحیت میں اضافہ، لاگت میں کمی اور عالمی مسابقت میں بہتری کا سبب بھی بن سکتے ہیں بشرطیکہ افرادی قوت کو بروقت ری سکلنگ کے مواقع ملیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ ہر "ٹیکنالوجیکل انقلاب" نے صرف دروازے بند نہیں کیے بلکہ نئے راستے بھی کھولے ہیں۔ بھاپ کے انجن نے دستکاری کو متاثر کیا، کمپیوٹر نے ٹائپسٹ اور کلرک کے کردار کو بدلا جبکہ انٹرنیٹ نے روایتی کاروبار کے ماڈلز کو چیلنج کیا مگر ہر دور میں وہی معاشرے آگے بڑھے جنہوں نے تبدیلی کو خطرہ کی بجائے موقع سمجھا۔ آج بھی معاملہ مختلف نہیں ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اے آئی آئے گا یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اسے کیسے اپناتے ہیں اور اپنی معیشت کے ڈھانچے میں کس طرح ضم کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کا تقریباََ ایک تہائی حصہ زراعت سے جڑا ہوا ہے۔
یہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس براہ راست کسان کی جگہ نہیں لے رہا مگر مارکیٹ انٹیلیجنس، موسمیاتی پیش گوئی، فصلوں کی بیماریوں کی تشخیص اور سپلائی چین مینجمنٹ میں ڈیجیٹل ٹولز تیزی سے اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اگر کسان اور زرعی کاروبار ان ٹیکنالوجیز کو اپنائیں تو پیداوار اور منافع میں نمایاں اضافہ ممکن ہے بصورتِ دیگر مسابقتی منڈی میں پیچھے رہ جانے کا خطرہ موجود ہے۔ اسی طرح صنعت اور لاجسٹکس میں اسمارٹ آٹومیشن سے معیار بہتر اور ضیاع کم کیا جا سکتا ہے۔ فری لانسنگ کے شعبے میں بھی تبدیلی واضح ہے۔
جنریٹو اے آئی کے بڑھتے استعمال نے بنیادی رائٹنگ، سادہ گرافک ڈیزائن اور عمومی کنٹینٹ پروڈکشن کی قیمتوں پر اثر ڈالا ہے۔ بعض بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ان شعبوں میں کم مہارت رکھنے والے فری لانسرز کی آمدنی متاثر ہوئی ہے تاہم اعلی معیار، تخلیقی سوچ، اسٹریٹجک پلاننگ اور کلائنٹ مینجمنٹ جیسی مہارتوں کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ یوں مقابلہ کم نہیں ہوا بلکہ معیار کی سطح بلند ہوئی ہے۔ خوش قسمتی سے حکومتی سطح پر بھی اس تبدیلی کا ادراک موجود ہے۔
منسٹری آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کی مجوزہ نیشنل اے آئی پالیسی میں اے آئی لٹریسی، اسکل ڈویلپمنٹ اور انٹرن شپ پروگرامز کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔ مگر پالیسی کاغذ سے عملی زندگی میں اسی وقت منتقل ہوتی ہے جب تعلیمی ادارے، صنعت اور نوجوان سنجیدگی سے اس سمت میں قدم بڑھائیں۔ اس معاملے میں محض سرٹیفکیٹ حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ عملی مہارت، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور مسلسل سیکھنے کی عادت ناگزیر ہے۔
یہاں اصل چیلنج رفتار کا ہے۔ ٹیکنالوجی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے جبکہ ہمارا تعلیمی نظام نسبتاً سست رفتار ہے۔ اگر یونیورسٹیاں اور ٹیکنیکل ادارے اپنے نصاب کو بروقت آپ ڈیٹ نہ کریں تو گریجویٹس مارکیٹ کی ضرورت سے ہم آہنگ نہیں رہ پائیں گے۔ اسی طرح اگر سرکاری و نجی ادارے اپنے ملازمین کو ری اسکلنگ اور آپ اسکلنگ کے مواقع فراہم نہ کریں تو پیداواری صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ عالمی رجحانات بتاتے ہیں کہ مکمل آٹومیشن کے بجائے ہیومن اِن دی لوپ ماڈل زیادہ مؤثر ثابت ہو رہا ہے جہاں فیصلہ سازی میں انسان کی نگرانی اور تخلیقی صلاحیت برقرار رہتی ہے۔
آنے والے پانچ برسوں میں پاکستان میں جن شعبوں میں مواقع بڑھنے کی توقع ہے ان میں ڈیٹا اینالیٹکس، سائبر سکیورٹی، آٹومیشن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور اے آئی انٹیگریشن نمایاں ہیں۔ یہ درست ہے کہ ہر فرد ڈیٹا سائنٹسٹ نہیں بن سکتا مگر ہر شعبے میں بنیادی ڈیجیٹل آگاہی پیدا کی جا سکتی ہے۔ استاد آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے تدریسی مواد بہتر بنا سکتا ہے، وکیل ریسرچ میں وقت بچا سکتا ہے، ڈاکٹر تشخیص میں ڈیجیٹل سپورٹ لے سکتا ہے اور تاجر مارکیٹ تجزیے میں فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یوں مہارت ہی اصل سکیورٹی بن جاتی ہے۔
یاد رہے کہ معیشت کا مستقبل صرف مشینیں طے نہیں کرتیں بلکہ انسانوں کے فیصلے طے کرتے ہیں۔ پاکستان نوجوانون کا ملک ہے جہاں آبادی کا بڑا حصہ 30 سال سے کم عمر ہے۔ اگر یہی نوجوان طبقہ اے آئی کو سمجھ کر، سیکھ کر اور عملی طور پر استعمال کرکے آگے بڑھے تو یہ خطرہ ایک بڑے موقع میں بدل سکتا ہے۔ ہمیں خوفزدہ ہونے کی بجائے زیادہ تیاری پر توجہ دینی ہوگی۔ نوکری کا تحفظ اب عہدے سے نہیں بلکہ مہارت سے وابستہ ہے۔ جو سیکھنے کا عمل جاری رکھے گا وہ بدلتی دنیا میں اپنی جگہ بنا لے گا اور جو سیکھنا چھوڑ دے گا وہ وقت کی رفتار کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ مستقبل ان کا ہے جو تبدیلی کو قبول کرکے اسے اپنی طاقت بنائیں گے۔