Tuesday, 30 June 2026
  1. Home/
  2. Tayeba Zia/
  3. Kahani Aik Ruhani Safar Ki

Kahani Aik Ruhani Safar Ki

پانچ سال پہلے تک بلتستان میں سرینافورٹ کے علاوہ کوئی جدید سہولیات کا ہوٹل میسر نہ تھا۔ سیاحت کے اعتبار سے گلگت ہنزہ اور سکردو مشہور ہیں جبکہ شگر گلگت بلتستان کا سب سے بڑا اور زرخیز ضلع ہے، کے ٹو بیس کی وجہ سے بھی معروف ہے مگر بلتستان انتہائی پسماندہ علاقہ ہے۔ 2021ء میں سکردو یونیورسٹی وزٹ کے ارادے سے پہلی مرتبہ گلگت بلتستان کا سفر کیا۔ پانچ برس پہلے سکردو ایئر پورٹ کی حالت سے ہی بلتستان کی پسماندگی کا اندازہ لگانا مشکل نہ تھا۔ اب تو جدید انٹرنیشنل ائیرپورٹ بننے جا رہا ہے۔

ضلع شگر پہنچی تو پانی کی حالت دیکھ کر آنسو نکل آئے، انسان اور جانور سب گدلا مٹی والا پانی پی رہے ہیں، ضلع شگر کی یونین کونسل چھورکاہ اور اطراف تمام دیہات میڈیکل اور صاف پانی کی سہولت سے محروم تھے۔ اللہ کے فضل و کرم سے مومنہ چیمہ فاؤنڈیشن پہلا خدمت خلق کا ادارہ ہے جس نے اہلیان شگر کو پہلی ایمبولینس دی، پہلا کلینک دیا، متعدد صاف پانی کے کنویں کھدوا کر دئیے، جدید طرز کا سکول تعمیر کرکے دیا، جدید لائبریریاں بنائی گئیں، کمپییوٹر لیب دی گئی۔

معیاری حفظ القران و ناظرہ سینٹر مہیا کیا اور ضلع شگر کو پہلا سرکاری پروفیشنل ٹریننگ سینٹر دینے والی بھی مومنہ چیمہ فاؤنڈیشن ہے۔ اس کے علاوہ بلتستان یونیورسٹی میں طالبات کو تعلیمی وظائف دئیے جاتے ہیں، عید الاضحی پر سفید پوش افراد سے جانور خرید کر انہی لوگوں میں گوشت تقسیم کیا جاتا ہے۔ چھوٹے کاروبار کے لئے دودھ دینے والے جانور اور دیسی مرغیاں ہدیہ کی جاتی ہیں۔ میڈیکل سہولیات میں معذور بچوں کو طبی امداد دی جاتی ہے، سکردو میں موٹر سائیکل سواروں کو فری ہیلمنٹ تقسیم کئیے گئے۔ قدرتی آفات پر پسماندگان کی امداد کی جاتی ہے۔

بلتستان کے ہی ضلع گانچھے میں بھی خدمات کا سلسلہ جاری ہے۔ اکثر سیاح خپلو ضلع گانچھے میں سرینا فورٹ دیکھنے جاتے ہیں۔ ضلع گانچھے میں بھی مومنہ چیمہ واٹر پراجیکٹس لگائے گئے ہیں۔ المختصر بلتستان میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ رفاعی خدمات کرنے والا ادارہ مومنہ چیمہ فاؤنڈیشن ہے۔ مومنہ چیمہ کی کہانی بھی سن لیں۔ یہ کہانی ہے ایک اس ماں کی جس نے ایک ایسی بیٹی کو جنم دیا جس نے ایک عام ماں کو ام مومنہ بنا دیا۔۔ 1985ء کی بات ہے۔

لاہورسی ایم ایچ ہسپتال میں ایک لڑکی پیدا ہوتی ہے۔ والد کیپٹن ڈاکٹر تھا۔ پھر یہ فیملی اعلی تعلیم کے لئے امریکہ شفٹ ہوجاتی ہے۔ والد امریکہ کے نامور ہسپتال جان ہوپکِنسن سے میڈیکل کی اعلی ڈگری حاصل کرتا ہے اور یہ لڑکی جب آٹھ برس کی ہوتی ہے اپنے دو چھوٹے بھائیوں اور والدین سمیت سعودی عرب شفٹ ہو جاتی ہے اورچند برس بعد یہ فیملی لاہور منتقل ہو جاتی ہے۔ اعلی تعلیم کا خواب سجائے یہ لڑکی اپنی فیملی سمیت واپس امریکہ منتقل ہو جاتی ہے۔

امریکہ کے ہائی سکول اور تقریری مقابلوں میں ٹاپ کرنے والی یہ لڑکی والد کی خواہش پر میڈیکل کالج میں داخلہ بھی لے لیتی ہے مگر وہ ڈاکٹر بننا نہیں چاہتی لہذااس نے امریکہ کی معروف یونیورسٹی ڈیوک سے بی اے اور ہاروڈ یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد وکالت کا شعبہ کا انتخاب کر لیا اور نامور یونیورسٹی آف ورجینیا لا کالج میں داخلہ لے لیا۔ یہ پاکستانی طالبہ اس قدر ہونہار تھی کہ اس کے پروفیسرز اسے منصف کی کرسی پر بیٹھا دیکھتے تھے۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور لاء کے دوسرے سال کی یہ ہونہار طالبہ 10 جون 2011ء کو نیویارک میں ایک کار حادثے میں اللہ کو پیاری ہو جاتی ہے۔ اس المناک سانحہ کے چند روز بعد اس طالبہ کے والد کو یونیورسٹیوں کے ڈین اور پروفیسروں کی فون کالز موصول ہوتی ہیں اور وہ لڑکی کے والد ڈاکٹر محمد اختر چیمہ کو بتاتے ہیں کہ آپ کی بیٹی صرف آپ کا loss نہیں بلکہ پوری دنیا کا loss ہے۔

ہماری یونیورسٹی اس قابل اور رول ماڈل طالبہ کی یاد میں میموریل سکالرشپ پروگرام کے اعزاز کا اجرا کرنا چاہتی ہیں جو کہ یونیورسٹی کا یادگار اعزاز ہوتا ہے اور یوں 2011ء میں یونیورسٹی آف ورجینیا لا کالج کی جانب سے مومنہ چیمہ میموریل سکالرشپ کا انعقاد کیا جاتا ہے اور ہارورڈ یونیورسٹی میں مومنہ چیمہ ٹریول گرانٹ کا میموریل پروگرام کا آغاز ہوجاتا ہے۔ جی ہاں اس قابل فخر لڑکی کا نام مومنہ چیمہ ہے۔ امریکہ میں واحد پاکستانی مسلم سٹوڈنٹ ہے جس کی یاد کو امریکہ کی نامور درسگاہوں نے میموریل سکالرشپ کے اعزاز سے نواز رکھا ہے۔

قابل فخر بات یہ ہے کہ امریکہ میں مومنہ چیمہ کا میموریل سکالرشپ فقط اسلامک لاء کے سٹوڈنٹس کو دیا جاتا ہے۔ اب تک متعدد سٹوڈنٹس اسلامی قانون کی ڈگریاں لے چکے ہیں ان میں جموں کشمیر کی طالبہ بھی شامل ہے۔ جبکہ ہارورڈ یونیورسٹی سے بھی طلبا پاکستان اردو اور اسلام پر ریسرچ پروگرام کرنے جاتے ہیں۔ یہی نہیں پاکستان سے بھی ہونہار لیکن مستحق طالبات امریکہ مومنہ چیمہ ٹریول گرانٹ پروگرام سے مستفید ہو رہی ہیں۔ بلوچستان کوئٹہ کے بولان میڈیکل کالج کی ایک طالبہ بھی مومنہ چیمہ پروگرام کے تحت ہارورڈ یونیورسٹی میں پڑھ رہی ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais