Wednesday, 18 March 2026
  1. Home/
  2. Tayeba Zia/
  3. Majeed Nizami Ki Rehlat Aur Lailatul Qadar Ka Pakistan

Majeed Nizami Ki Rehlat Aur Lailatul Qadar Ka Pakistan

شب قدر ستائس ویں کی رات امام کعبہ عبد الرحمان سدیس نے قیام لیل میں ہمیشہ کی طرح گڑ گڑا کر وتر کی دعا مانگی تو لگا حرم شریف پر انوارات کی بارش برس رہی ہے۔۔ سورہ الصف کی تلاوت کی اور جب یہ آیات تلاوت کیں تو ہمارے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ یوں لگا جیسے قیام پاکستان اور اس کے وجود کی حقیقت پر مہر ثبت کر دی گئی ہو۔ "بے شک اللہ تو ان کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے"۔

بنیان مرصوص کی آیت مبارکہ کی ساتویں طاق رات کو تلاوت جیسے معرکہ بنیان مرصوص کی یاددہانی کرائی جا رہی ہو کہ وہ ریاست پاکستان جو ستائیسویں رمضان المبارک شب قدر کو معرض وجود میں آئی، اس پر دشمن نے جو حملہ کیا اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد نے اپریشن بنیان مرصوص سے دشمن کو شکست فاش دی اور جب امام حرم نے سورہ الصف کی یہ آیت مبارکہ تلاوت کی " دوسری بات جو تم پسند کرتے ہو اللہ کی طرف سے مدد ہے اور جلدی فتح اور ایمان والوں کو خوشخبری دے دو۔ " تو یوں لگا جیسے حالیہ ایران امریکہ اسرائیل کی جنگ میں امت کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔۔ حرم شریف میں آخری عشرہ طاق راتیں قیام لیل کے قیام و سجود میں امن کی دعائیں مانگی گئیں۔ مگر جو کیفیات ستائیسویں شب کو وارد ہوئیں اس نے پاکستان، پاک فوج اور سپہ سالار کی کمانڈ سے متعلق شرح صدر عطا کیا۔

اللہ پاک پاکستان اور پاک فوج کو ہر محاذ پر نصرت فتح عطا فرمائے۔۔ آج اسلامی کیلینڈر کے مطابق معمارِ نوائے وقت محترم مجید نظامی کی برسی کا دن بھی ہے۔ ہمارے استاد محسن اور والد کی طرح شفیق بزرگ ملک کا قیمتی اثاثہ تھے۔ تحریک پاکستان کے کارکن، نامور صحافی اور نوائے وقت کے مدیرِ اعلیٰ ڈاکٹر مجید نظامی کا انتقال 26 جولائی 2014ء (ستائیسویں رمضان المبارک) کو ہوا تھا۔ وہ بے باک صحافت اور نظریہ پاکستان کے محافظ کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کا خلا کبھی پر نہیں ہوسکتا۔ اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے آمین۔ پاکستان سے محبت کرنے والے قیامِ پاکستان کے دن لیلتہ القدر کو اللہ کو پیارے ہو گئے۔

پاکستان ایک روحانی ملک ہے، اس کی اساس اور بنیاد سیاسی و معاشی نہیں ہے بلکہ روحانی ہے۔ یہ عام ملک نہیں ہے اس کو اللہ بہت بڑا انعام دینے وا لا ہے، اِس میں کوئی شُبہ نہیں کہ اسے پہلے بھی بہت سے ناقابلِ یقین و غیر متوقع انعامات سے نوازا گیا ہے اور آئندہ بھی ضرور انعام سے نوازا جائے گا اس وقت قدرت کا ایک بہت بڑا پروگرام بن رہا ہے اس ملک کو اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام کی امامت کیلئے بنایا ہے۔

رات کے ٹھیک 12 بجے پہلے انگریزی اورپھر اُردو میں یہ الفاظ گونجے: "یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے۔ " فوراً بعد مولانا زاہر القاسمی نے قرآن مجید کی سورۃ فتح کی آیات تلاوت فرمائیں۔ 15اگست کو جمعتہ الوداع تھا۔ اُسی دن پاکستان کا پہلا سرکاری گزٹ شائع ہوا۔ اُسی روز جمعتہ الوداع کے حوالے سے قائدِاعظم کا پیغام جاری ہوا۔ 15 اگست کو ستائیسویں رمضان تھی۔ چنانچہ 15-14 اگست کی درمیانی شب"لیلتہ القدر" تھی۔

رمضان المبارک برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے۔ نزولِ قرآن پاک کی مقدس رات لیلتہ القدر کی نورانی صبح جمعتہ الوداع کا مقدس دن، جب رب ذوالجلال والاکرام نے اپنے محبوب اورمکرم نبی حضرت محمد مصطفیﷺ کے طفیل ان کے کروڑوں امتیوں کو جذبۂ ایمانی اور مثالی اتحاد و برکت سے، پاکستان کی وسیع و عریض اسلامی مملکت کی عظیم نعمت عطا فرمائی"۔ پاکستان کا قیام بابائے قوم حضرت قائداعظم کی فراست، تدبر، خلوص اور دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 40ء کی دہائی میں قائد اعظم کی صحت روز بروز بگڑ رہی تھی، کیونکہ انہیں تپ دق کی بیماری لاحق تھی۔ قائد اعظم اور ان کے معالج نے اس مرض کا راز افشا نہ ہونے دیا، کیونکہ قائد اعظم اس سے بخوبی واقف تھے کہ اگر ڈاکٹروں اور انگریزوں نے مسلمانوں کے خلاف اپنی سازشیں جاری رکھیں تو پھر شاید پاکستان دنیا کے نقشے پر کبھی نمودار نہ ہو سکے گا۔

انگریزوں کی سرتوڑ کوشش تھی کہ برصغیر میں پاکستان قائم نہ ہو۔ ہندو بھی یہی چاہتے تھے کہ ہندوستان کی تقسیم نہ ہو اور نہ ہی پاکستان بنے۔ اس لئے انگریز اور ہندو پاکستان کے قیام کی راہ میں روڑے اٹکار رہے تھے، لیکن آفرین ہے قائد اعظم کی فراست اور تدبر پر کہ انہوں نے انگریزوں اور ہندوؤں کی اس سازش کو بخوبی بھانپ لیا اور انہوں نے عزم کر لیا کہ وہ مسلمانوں کے لئے اپنی زندگی میں ہر صورت پاکستان قائم کرکے دم لیں گے۔ قیامِ پاکستان کے وقت برصغیر پاک و ہند میں مسلمان ایک قوم کی حیثیت رکھتے تھے اور اس قوم کو ایک ملک کی تلاش تھی، 1947ء میں ہم ایک قوم تھے، اللہ رب العزت کی مدد و نصرت ہمارے شاملِ حال ہوئی اور اس قوم کی متحدہ جد و جہد کے نتیجے میں ہمیں یہ ملک ملا۔ پاکستان کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا، اسے معرض وجود میں لانے کے لئے مسلمانان برصغیر نے لاکھوں شہدا کا خون دیا، اس کی فکری اور نظریاتی اساس کلمے پر رکھی گئی۔ پاکستان اللہ پاک کا انعام ہے"جب انعامِ الٰہی کی قدر نہ کی جائے تو سزا بھی ملتی ہے۔

تحریک آزادی کے دوران ایسے مسلم راہنما کی ضرورت تھی جو انگریزوں کے قول و فعل اور ہندوؤں کی چالبازیوں سے واقف ہو چونکہ محمد علی جناح نے اکثر تعلیم انگریزوں کے تعلیمی اداروں سے حاصل کی اور عملی زندگی کا آغاز بھی انگلستان سے کیا پھر اپنی سیاسی زندگی کے آغاز میں ہندوؤں کی جماعت کانگریس میں رہنے کا تجربہ بھی حاصل کیا چنانچہ منشائے الٰہی اور منشائے نبوت کے تحت قیادت کے لئے محمد علی جناح کا انتخاب ہوا۔ اس دنیا سے روانہ ہوتے ہوئے حضرت قائدِ اعظمؒ نے پاکستان کسی لیڈر یا قوم کے سپرد نہ کیا تھا بلکہ خدا تعالیٰ کے سپرد کیا تھا اور فرمایا:

"اے اللہ تُو نے ہی مسلمانوں کو آزادی بخشی ہے اب تو ہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے۔ میری قوم ابھی ابتدائی مراحل طے کر رہی ہے، تُو ہی مدد کرنے والا ہے اور تُو ہی اس کا حامی و ناصر ہے"۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais