Saturday, 09 May 2026
  1. Home/
  2. Tayeba Zia/
  3. Marka e Haq Bunyan Marsoos

Marka e Haq Bunyan Marsoos

سپہ سالار سید عاصم منیر کی قیادت میں "معرکہ بنیان مرصوص"پاکستان کی حالیہ عسکری تاریخ کا ایک اہم باب بن کر ابھری ہے۔ جنرل عاصم منیر نے منصب سنبھالنے کے بعد سے "بنیان مرصوص" کے قرآنی تصور کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی کی بنیاد بنایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیرونی جارحیت ہو یا اندرونی دہشت گردی، ریاست کا جواب ایک ایسی دیوار کی طرح ہوگا جس میں کوئی دراڑ ممکن نہیں۔ 2025ء میں جب سرحدوں پر کشیدگی بڑھی، تو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی افواج نے "پرو ایکٹو ڈیفنس" کی پالیسی اپنائی۔

دشمن کی جانب سے کسی بھی غلط فہمی یا مہم جوئی کا جواب دینے کے لیے انہوں نے واضح پیغام دیا کہ پاکستان کی علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے دور میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ڈرون ٹیکنالوجی کو دفاعی نظام میں ضم کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی، جس کا عملی مظاہرہ "معرکہ بنیان مرصوص" میں نظر آیا۔ بارہا اپنے خطابات میں کہا ہے کہ آج کی جنگ صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ ذہنوں میں بھی لڑی جا رہی ہے۔

"بنیان مرصوص" کا ایک پہلو "ڈیجیٹل دہشت گردی" اور پروپیگنڈے کے خلاف ایک مضبوط نظریاتی دیوار کھڑی کرنا بھی ہے۔ ان کا موقف رہا ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی ہر کوشش کو اسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار سے ٹکرا کر پاش پاش ہونا پڑے سپہ سالار نے دفاع کو معیشت سے جوڑا ہے۔ ان کے نزدیک ایک مضبوط معیشت ہی وہ "سیسہ" ہے جو دفاعی دیوار کو استحکام بخشتی ہے۔ آج جب اس معرکے کو ایک برس مکمل ہو رہا ہے، تو عسکری حلقوں میں اسے جنرل عاصم منیر کی اس پالیسی کی فتح قرار دیا جاتا ہے۔

جنرل عاصم منیر کے دور میں "بنیان مرصوص" محض ایک فوجی اصطلاح نہیں رہی، بلکہ یہ ریاستی رٹ، سرحدی دفاع اور قومی یکجہتی کا ایک جامع فریم ورک بن چکا ہے، جس نے 2025ء کے معرکے میں پاکستان کی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا۔ معرکہ حق" کی اصطلاح عموماً حق اور باطل کے درمیان کسی بڑے ٹکراؤ یا جدوجہد کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جس کے اثرات وقت گزرنے کے ساتھ مزید واضح ہوتے جاتے ہیں۔ ایک سال کا عرصہ کسی بھی بڑے واقعے کے نتائج کو سمجھنے اور اس کے شہداء یا اس میں شامل افراد کی قربانیوں کو یاد کرنے کے لیے اہم سنگ میل ہوتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ان معرکوں میں اکثر پاکستانی افواج کو اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کا سامنا تھا۔ چاہے وہ 1965ء کا رن کچھ ہو، واہگہ کا دفاع ہو یا چونڈہ کے مقام پر ٹینکوں کی عظیم الشان جنگ، محدود وسائل کے باوجود دفاعی لکیر کو برقرار رکھنا ایک بڑی کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔ ان معرکوں کی سب سے بڑی طاقت عوام کا اپنی فوج کے ساتھ کھڑا ہونا تھا۔ "معرکہ حق" کی اصطلاح اس لیے بھی مستعمل ہے کہ اس دوران ملی نغموں، عوامی جوش اور مصلایوں پر ہونے والی دعاؤں نے ایک ایسی فضا پیدا کی جس نے محاذِ جنگ پر موجود سپاہیوں کے حوصلے بلند رکھے۔

حق کی اس جنگ میں میجر عزیز بھٹی شہید سے لے کر دیگر شہداء تک، وہ نام شامل ہیں جنہوں نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر ثابت کیا کہ سرحدوں کی حفاظت صرف اسلحے سے نہیں بلکہ ایمان کی قوت سے ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر بھی ان معرکوں نے یہ پیغام دیا کہ خطے میں طاقت کا توازن محض رقبے سے طے نہیں ہوتا۔ پاکستان نے ہمیشہ اپنے دفاع کے حق کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق استعمال کیا، جسے اخلاقی طور پر "حق کی فتح" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

"معرکہ حق بنیان مرصوص" کو ایک برس بیت گیا۔ معرکہ بنیان مرصوص (جیسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار) ایک ایسی اصطلاح ہے جو قرآنی استعارے سے ماخوذ ہے اور عسکری تاریخ میں اسے انتہائی مضبوط، متحد اور ناقابلِ تسخیر دفاع کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پاک بھارت تعلقات اور دفاعِ پاکستان کے تناظر میں، یہ اصطلاح عام طور پر ان آپریشنز یا جنگی حکمتِ عملیوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جہاں پاکستانی افواج نے دشمن کی عددی برتری کے سامنے ایک ایسی دیوار قائم کی جسے توڑنا ناممکن ہوگیا۔

تاریخ میں جب بھی دشمن نے اچانک حملے کے ذریعے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی، تو جوابی کارروائی اتنی شدید اور مربوط تھی کہ اسے "بنیان مرصوص" کی عملی تصویر کہا گیا۔ اس معرکے کا بنیادی فلسفہ صرف ٹینک یا توپیں نہیں، بلکہ وہ اتحاد ہے جو سپاہی اور کمانڈر کے درمیان ہوتا ہے۔ پاکستانی عسکری فکر میں اسے "ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ" کے جذبے سے جوڑا جاتا ہے، جہاں موت کا خوف ختم ہو کر دفاعِ وطن کی تڑپ بن جاتا ہے۔

معرکہ بنیان مرصوص مئی 2025ء کو پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک نئے اور جدید دفاعی باب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ معرکہ روایتی جنگ سے ہٹ کر اسٹریٹجک دفاع اور جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کی ایک بڑی مثال بن کر ابھرا ہے۔ اس معرکے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں روایتی دستوں کے ساتھ ساتھ ڈرون ٹیکنالوجی نگرانی اور درست نشانہ بنانے کے لیے جدید ڈرونز کا بھرپور استعمال کیا گیا۔ دشمن کے کمیونیکیشن نظام کو مفلوج کرنے کے لیے الیکٹرانک آلات کا استعمال کیا گیا تاکہ ان کی نقل و حرکت کو روکاگیا۔

انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی بروقت کارروائیوں نے دشمن کے ارادوں کو سرحد پار ہی ناکام بنا دیا۔ اسے "فتح" اس لحاظ سے قرار دیا جاتا ہے کہ پاکستان نے اپنی علاقائی سالمیت کا کامیابی سے دفاع کیا اور دشمن کو کوئی بھی اسٹریٹجک فائدہ حاصل نہیں کرنے دیا۔ اس معرکے نے ثابت کیا کہ پاکستان کا دفاعی نظام کسی بھی اچانک مہم جوئی کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ پاکستانی افواج کے مختلف شعبوں (بری، بحری اور فضائیہ) کے درمیان ہم آہنگی پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ اب جب کہ اس معرکے کو ایک برس مکمل ہو رہا ہے، اسے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔ یہ معرکہ قوم کے حوصلے بلند کرنے اور دفاعِ وطن کے لیے متحد ہونے کی علامت بن چکا ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais