پاکستان گزشتہ چند برسوں سے جس قسم کی صورتحال سے دوچار ہے رب العزت نے، قیادت، سفارتکاری اور حکمت و فہم بھی اس کے مطابق فائز کر رکھی ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی تاریخِ اسلام کی ان عظیم ترین شخصیتوں میں سے ایک ہیں جن کی شجاعت، دلیری جذبہ جہاد اور بردباری کا اعتراف نہ صرف مسلمان بلکہ ان کے دشمن (صلیبی مسیحی) بھی کرتے تھے۔
موجودہ دور کا مسیحی صدر بھی موجودہ دور کے صلاح الدین ایوبی کے قصیدے گا رہا ہے۔ ہر دور اور خطے میں صدیوں بعد دلیر ہیروز آتے رہے ہیں مگر قدر ان کے قبروں میں جانے کے بعد ہی ہوا کرتی ہے البتہ صاحبِ نظر بھی ہر دور میں بصیرت اور بصارت سے تاریخ لکھتے رہتے ہیں۔ صدیوں بعد نسلیں ہیروز کا ادراک کرنے کے اہل ہو پاتی ہیں۔
اللہ کا نظام ہے اپنے بندوں کو وقت اور حالات کے مطابق مشن اور منصب پر فائز کرتا ہے۔ ہر کسی نے فلسطین فتح نہیں کرنا ہوتا، اپنے خطہ اور ملک کو تباہی اور محکومی سے محفوظ بنانا یہ بھی معرکہ بنیان المرصوص سیسہ پلائی دیوار بن جاتا ہے۔ اپنے خطہ پر قبضہ ہونے سے بچانا بھی فتح و نصرت کی ضمانت ہے۔ پاکستان غزوہ ہند اور عربوں کے بعد عجمیوں کو منصب عطا کرنے کی پیشگوئیاں بھی احادیث سے ثابت ہیں۔
ہر دور کے ہیرو اور قیادت کو اپنے دور کے یوتھیوں اور پٹواریوں سے بھی واسطہ رہا ہے۔ دور حاضر کے پاکستان میں بھی کئی اقسام کی قیادت آتی جاتی رہی ہیاور مخالفین طنزیہ القابات سے بھی نوازتے رہے ہیں۔ کچھ بھی نہیں بدلا البتہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی غلاظت نے بصیرت کا گلہ گھونٹ ڈالا اور بصارت کو من مرضی کے چہرے متعارف کرانا شروع کر دئیے۔ پاکستان کرامات کی آماجگاہ ہے۔ کرشمے رونما ہوتے رہتے ہیں۔ صلاح الدین ایوبی اپنے وقت کے مجاھد غازی اور فاتح تھے۔
پاکستان دنیا کے نقشہ میں ایک منفرد ریاست نمودار ہوئی، یہاں کرامات بھی منفرد رونما ہوتی ہیں۔ سپہ سالار وقت سید عاصم منیر پاک فوج کے پہلے آرمی چیف ہیں جو حافظِ قرآن ہیں۔ انہوں نے مدینہ منورہ میں تعیناتی کے دوران قرآن پاک حفظ کیا، جو ان کی شخصیت کے مذہبی اور روحانی پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔ فیلڈ مارشل کسی بھی فوج کا اعلیٰ ترین رینک ہوتا ہے، جو عام طور پر پانچ ستاروں (5-Star) کے برابر سمجھا جاتا ہے۔
یہ اعزاز کسی جنرل کو اس کی غیر معمولی جنگی خدمات، غیر معمولی فتوحات یا طویل فوجی کیریئر کے صلے میں دیا جاتا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی اور براہِ راست فوجی ٹکراؤ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا ایک حساس ترین موڑ بن چکا ہے۔ یہ دہائیوں پر محیط "شیڈو وار" (خفیہ جنگ) سے نکل کر اب ایک کھلے تنازعہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ پہلے یہ جنگ لبنان میں حزب اللہ، غزہ میں حماس اور یمن میں حوثیوں کے ذریعے لڑی جا رہی تھی، لیکن حالیہ برسوں میں (خاص طور پر 2024ء اور 2025ء کے دوران) دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سرزمین پر براہِ راست حملے کیے۔
اسرائیل کے لیے سب سے بڑا خطرہ ایران کا ایٹمی پروگرام ہے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ وہ ایران کو کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا، جبکہ ایران اسے پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا ہے۔ امریکہ اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی ہے، جس کی وجہ سے یہ علاقائی جنگ کسی بھی وقت عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں 2026ء کے آغاز سے اب تک خطے میں تناؤ برقرار ہے اور سفارتی کوششوں کے باوجود دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔
ایران اور بھارت کے تعلقات کی تاریخ صدیوں پرانی ہے، لیکن حالیہ واقعات نے ان تعلقات کو ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکل موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ ایران عراق کی طویل جنگ بھی تاریخ کا ایک سوالیہ باب ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش نے دنیا کے لئے معاشی چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ بھارت کی 90 فیصد ایل پی جی اور خام تیل کی بڑی مقدار بھی اسی راستے سے آتی ہے۔ سپلائی رکنے کی وجہ سے بھارت اور پاکستان میں گیس کی قلت اور احتجاجی لہر دیکھی گئی ہے۔
مارچ 2026ء کی موجودہ صورتحال کے مطابق، ایران اور اسرائیل/امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے پاکستان کو ایک انتہائی مشکل سیاسی اور معاشی امتحان میں ڈال دیا ہے۔ پاکستان اس وقت "نیوٹرل" رہنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن جنگ کے اثرات ملک کے اندر گہرے ہو چکے ہیں۔ پاکستان نے اس جنگ میں کسی بھی فریق کا ساتھ دینے کے بجائے غیر جانبداری کی پالیسی اپنائی ہے: وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو بطور "غیر جانبدار مقام" پیش کیا ہے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حال ہی میں امریکی قیادت سے بات چیت کی ہے تاکہ تناؤ کو کم کیا جا سکے، جبکہ ایرانی صدر سے بھی رابطے میں ہیں۔ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدہ اسے ایک نازک پوزیشن میں لاتا ہے، جہاں اسے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمزراستے کی بندش نے پاکستان کے لیے تیل اور ایل این جی کی سپلائی روک دی ہے، کیونکہ پاکستان کا 90 فیصد تیل اسی راستے سے آتا ہے۔ قطر سے آنے والے ایل این جی جہازوں میں تاخیر کے باعث ملک میں بجلی کا شارٹ فال بڑھ گیا ہے۔
حکومت نے تیل بچانے کے لیے سرکاری دفاتر میں 4 روزہ ہفتہ اور اسکولوں کی عارضی بندش جیسے اقدامات کیے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔ پاکستان نیوی نے 9 مارچ 2026ء کو خلیج میں اپنے تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے "آپریشن محافظ البحر" شروع کیا ہے۔
900 کلومیٹر طویل سرحد پر ہائی الرٹ ہے تاکہ جنگ کی وجہ سے ممکنہ پناہ گزینوں کی آمد یا شدت پسند گروپوں کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔ پاکستان اور قیادت اس وقت سنگین چیلنجز سے دوچار ہیں، صاحب بصیرت موجودہ صورتحال اور مستقبل کے تناظر میں وطن عزیز وقت کے صلاح الدین ایوبی اور تمام فورسز کی جرات اور نصرت کے لئے دعا گو ہیں۔