Tuesday, 17 March 2026
  1. Home/
  2. Tayeba Zia/
  3. Sabab Kuch Aur To Hai Tu Jis Ko Khud Samajhta Ha

Sabab Kuch Aur To Hai Tu Jis Ko Khud Samajhta Ha

حجاز مقدسہ کی حفاظت کے لئے ہر کلمہ گو کی جان قربان۔ جس ملک میں مقامات مقدسہ ہیں پاکستان نے بھی اس کی حفاظت کا دفاعی معاہدہ کر رکھاہے۔ گو کہ ہر مسلمان کا دل مکہ مدینہ کے لئے دھڑکتا ہے۔ دوسری جانب اسلامی برادر ریاستیں ہیں، پاکستان بڑا بھائی بن کر سب کی حفاظت کے لئے کوشاں ہے۔ ایران کا قدیم نام فارس تھا۔ فارس سے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تم پہلے عرب کے جزیرے کو فتح کرو گے، پھر فارس (ایران) سے جہاد کرو گے اور اللہ اسے فتح کر دے گا، پھر روم والوں سے لڑو گے اور اسے بھی فتح کر دے گا اور آخر میں دجال سے لڑو گے "۔ اگر علم ثریا ستاروں کے پاس بھی ہوتا تو فارس کے لوگ اسے حاصل کر لیتے " (بخاری و مسلم)"۔ کسریٰ (ایران کا بادشاہ) ہلاک ہوگیا، اب اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا اور قیصر (روم کا بادشاہ) ہلاک ہوگیا، اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا" (بخاری)۔

ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سورۃ الجمعہ کی آیتیں نازل ہوئیں اور وہ دوسرے جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ نے عرض کی یارسول اللہ! یہ دوسرے کون لوگ ہیں؟ آنحضرت ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آخر یہی سوال تین مرتبہ کیا۔ مجلس میں سلمان فارسیؓ بھی موجود تھے آنحضرت ﷺ نے ان پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اگر ایمان ثریا پر بھی ہوگا تب بھی ان لوگوں (یعنی فارس والوں) میں سے اس تک پہنچ جائیں گے یا یوں فرمایا کہ ایک آدمی ان لوگوں میں سے اس تک پہنچ جائے گا۔ حضور پاک کے ارشاد مبارک کے مطابق کیسر و قصریٰ ہلاک ہو چکے اب کوء کیسری و قیصری نہیں آئیں گے۔ آخر میں دجال سے لڑو گے۔ اسرائیل اور امریکہ فارس پر حملہ آور ہو گئے ہیں تو کیا سمجھا جائے دجال سے لڑائی کا وقت آن پہنچا ہے؟ ایران اور عرب ریاستیں دونوں طرف اسلامی برادر ہیں، اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے، مشکل امتحان ہے۔ ایران کو ہتھیار بیچنے والے جانتے ہیں ان کی پرواز کہاں تک ہے۔ ہتھیار بیچنے اور خریدنے کے لئے جنگیں ضروری ہو جاتی ہیں اور مرتے عام شہری ہیں۔

عائشہؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ اپنی نماز میں دجال کے فتنے سے پناہ مانگتے تھے۔ (صحیح البخاری)۔

ام المؤمنین عائشہؓ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی نماز میں یہ دعا کرتے تھے اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، میں تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح (کانے) دجال کے فتنہ سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ اور قرض سے۔ تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: (اللہ کے رسول!) آپ قرض سے کس قدر پناہ مانگتے ہیں؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: آدمی جب قرض دار ہوتا ہے، بات کرتا ہے، تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے، تو اس کے خلاف کرتا ہے۔ (سنن ابی داود)۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais