صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ملک گیر سطح پر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ ان مظاہروں کو Kings" "No (کوئی بادشاہ نہیں) مہم کا نام دیا گیا ہے جو ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز کے بعد سے اب تک کا تیسرا بڑا احتجاجی مظاہرہ ہے۔ امریکہ بھر میں تقریباً 80 لاکھ سے زائد افراد نے 3,300 سے زیادہ مقامات پر ان مظاہروں میں حصہ لیا۔ اسے امریکی تاریخ کے بڑے ترین احتجاجی اجتماعات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
نیویارک میں ٹائمز سکوائر کے قریب بڑے مجمع نے احتجاج کیا۔ مظاہرین کے بڑے مطالبات میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کی مخالفت، سخت گیر امیگریشن پالیسیاں اور ICE (Enforcement Customs and Immigration) کی کارروائیاں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی پالیسیوں کی مخالفت، صدارتی اختیارات میں غیر معمولی اضافے اور "آمریت" کے خلاف مظاہرے شامل ہیں۔ یہ مظاہرے صرف امریکہ تک محدود نہیں رہے بلکہ پیرس، لندن، برلن، روم اور میڈرڈ جیسے بین الاقوامی شہروں میں بھی ٹرمپ مخالف ریلیاں نکالی گئیں۔ سکیورٹی کے لحاظ سے بیشتر مظاہرے پرامن رہے۔۔
بظاہر صدر ٹرمپ اپنی مدت پوری کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے۔ ایران جنگ کی مخالفت میں پاکستان میں بھی مظاہرے ہوئے مگر بد قسمتی سے شر پسند عناصر کی سازش یہاں بھی کامیاب ہوگئی، گلگت بلتستان اور کراچی میں اپنے ملک کی ہی املاک اور عسکری تنصیبات پر حملے توڑ پھوڑ غنڈہ گردی کے واقعات رونما ہوئے۔ جبکہ پاکستان بہت مشکل حالات سے دوچار رہا ہے مگر ہماری حمایت میں کبھی نہ ایران اور نہ ہی کسی اسلامی ملک میں کبھی کوئی مظاہرہ تو درکنار چار بندے باہر نہیں نکلتے۔ فوج کی خدمات اپنے وطن کے علاوہ اسلامی ممالک کی حفاظت کے لئے پیش پیش رہتی ہیں۔
اسی فوج کے خلاف شر پسندی اور عسکری مقامات اور وردی کو اشتعال کا نشانہ بنانا غداری اور سراسر نمک حرامی ہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ بھی حسب عادت متکبرانہ اور جاہلانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اب تک ایران جنگ سے متعلق امریکی جارحیت پر تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں مگر صدر ٹرمپ کے ولی عہد سے متعلق توہین آمیز رویے نے ایک نئی بحث شروع کر دی ہے۔ میامی، فلوریڈا میں ایک سرمایہ کاری فورم سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کے بارے میں کچھ سخت اور بیہودہ الفاظ استعمال کیے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ولی عہد نے ماضی میں ان کیدوبارہ صدر بننیکی توقع نہیں کی تھی، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ انہوں نے نہایت غیر مہذبانہ زبان استعمال کرتے ہوئے کہا: وہ (محمد بن سلمان) نہیں سوچتے تھے کہ ایسا ہوگا۔۔ انہوں نے نہیں سوچا تھا کہ وہ میری خوشامد کریں گیلیکن اب انہیں میرے ساتھ اچھا چلنا ہوگا۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مخصوص سیاسی بیان بازی میں سعودی ولی عہد کے خلاف کچھ "تضحیک آمیز" الفاظ استعمال کیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ انہیں ایک مضبوط اتحادی اور "وارئیر" کے طور پر بھی پیش کر رہے ہیں۔
ماہرین اسے ٹرمپ کا روایتی انداز قرار دے رہے ہیں جس میں وہ غیر ملکی رہنماؤں پر اپنی برتری جتانے کے لیے اس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ حالیہ صورتحال میں سعودی عرب کا کردار کافی حد تک "توازن برقرار رکھنے" والا رہا ہے۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیانات میں سعودی ولی عہد کو ایک "جنگجو" (Warrior) قرار دیا ہے، لیکن عملی طور پر سعودی عرب نے براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کیا ہے۔ سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں کسی بڑی جنگ کا حصہ بننے کے بجائے اپنے دفاع پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
سعودی حکام کا موقف ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک (جیسے ایران) کے خلاف حملے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ چین کی ثالثی میں ہونے والے 2023ء کے معاہدے کے بعد سے سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ سعودی عرب نہیں چاہتا کہ وہ دوبارہ ایران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی میں الجھے، جس سے اس کی تیل کی تنصیبات (جیسے آرامکو) کو خطرہ لاحق ہو سکے۔ امریکہ اسرایئل تعلقات بھی تناؤ کا شکار ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو اگرچہ تاریخی طور پر قریبی اتحادی ہیں، لیکن حالیہ فوجی اور سیاسی واقعات نے ان کے درمیان تعاون اور کھچاؤ کی فضا پیدا کر دی ہے۔ ٹرمپ نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کے خوف سے نیتن یاہو کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے انرجی انفراسٹرکچر (تیل کے کنوؤں اور ریفائنریز) کو نشانہ نہ بنائیں۔ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک بیان دیا کہ: "میں نے نیتن یاہو کو بتایا تھا کہ وہ ایران کی توانائی کو ہاتھ نہ لگائیں۔ ٹرمپ اب اس جنگ سے فیس سیونگ چاہتے ہیں اور مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ نیتن یاہو "مکمل فتح" اور تہران میں حکومت کی تبدیلی رجیم چینج پر زور دے رہے ہیں۔
ثاثلتی کا کردار اللہ پاک کا پاکستان کو دنیا میں اعزاز سے نوازنا ہے۔ گو کہ پاکستان افغانستان میں لڑائی لڑ رہا ہے مگر امت مسلمہ کی قیادت بھی اس وقت پاکستان کو سونپ دی گئی ہے۔ امریکہ بھی پاکستان کو اپنا اہم اتحادی سمجھتا ہے اسی لئے صدر ٹرمپ ہر تقریر میں وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کرنا نہیں بھولتے۔ پوری دنیا جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے جسے تیسری عالمی جنگ سے بھی تعبیر کیا جا رہا ہے۔
پاکستان نیوٹرل رہنا چاہتا ہے۔ جنگ طوالت پکڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ ٹرمپ کو اندرون ملک شدید مخالفت کا سامنا ہے لیکن اسرایئل سے پیٹھ پھیرنا بھی اس کے لیئے نا ممکن ہو چکا ہے۔ پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ سیز فائر ہو سکے ورنہ تیل اور گیس کا شدید فقدان اور معاشی بحران کیسنگین خطرات درپیش ہیں۔