Saturday, 18 April 2026
  1. Home/
  2. Tayeba Zia/
  3. Wato Izzo Mann Tasha

Wato Izzo Mann Tasha

اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے عزتوں سے نواز دیتا ہے۔ پاکستان تو ہے ہی عزتوں کے لائق۔ کائنات میں حقیقی عزت اور ذلت دینے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ انسان بظاہر کسی کو عزت دار یا ذلیل دیکھ سکتا ہے، لیکن اس کے پیچھے اصل حکم اور تقدیر اللہ کی ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نیوائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا جاتا ہے اور یہ معاہدہ اسلام آباد میں دستخط ہوتا ہے، تو وہ پاکستان کا دورہ کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ امریکی صدر نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا ہے اور مذاکرات میں ثالثی کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو اہم قرار دیا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک دور حال ہی میں اسلام آباد میں ہوا تھا اور مذاکرات کا اگلا دور بھی پاکستان میں متوقع ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، دونوں ممالک ایک امن معاہدے کے قریب ہیں، جس کی وجہ سے یہ دورہ ممکن ہو سکتا ہے۔۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنگ زون تہران کا دورہ کرکے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ یہ دورہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازعہ کو حل کرنے اور مذاکرات کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس دورے میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ان کے ہمراہ تھے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان کا استقبال کیا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کی۔ انہوں نے "خاتم الانبیاء" سینٹرل ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر سے ملاقات کی، جس میں جنگ بندی اور خطے میں استحکام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی جاری ہے اور پاکستان دونوں ممالک کے درمیان جوہری مسائل اور دیگر تنازعات پر ثالثی کے لیے کوشاں ہے۔

مغربی میڈیا اس دورے کو ایک سفارتی کوشش کے طور پر دیکھ رہا ہے جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کو دوبارہ پٹری پر لانا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاکستان کی کوشش ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات کے بعد اب تہران کے ساتھ مل کر ایک نئے لائحہ عمل پر اتفاق کیا جائے۔ مبصرین کے نزدیک آرمی چیف کا دورہ یہ پیغام دینے کے لیے ہے کہ پاکستان اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے ایک غیر جانبدار اور مؤثر سہولت کار کے طور پر کردار ادا کرنے کا خواہشمند ہے۔

بین الاقوامی میڈیا اس بات پر متفق ہے کہ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ مغربی مبصرین پاکستان کی اس سفارت کاری کو مستحکم کرنے والی قوت کے طور پر دیکھ رہے ہیں، کیونکہ یہ جنگ عالمی توانائی کی منڈیوں اور تجارت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ چونکہ پاکستان کی طرف سے خود چیف آف ڈیفبس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی پر مشتمل وفد تہران گیا ہے، اس سے مغربی میڈیا یہ تاثر لے رہا ہے کہ پاکستان اس ثالثی کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے اور تہران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف کا موجودہ دورہ سعودی عرب بھی انتہائی اہم نوعیت کا ہے، یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ وزیر اعظم نے سعودی قیادت کے ساتھ ملاقات میں علاقائی امن و سلامتی اور جاری کشیدگی میں کمی لانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان حالیہ عرصے میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیر اعظم کا یہ دورہ اسی سفارتی تسلسل کا حصہ ہے تاکہ علاقائی امن کے قیام اور مذاکرات کے اگلے لائحہ عمل پر سعودی عرب کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

وزیر اعظم نے خطے میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب کی جانب سے دکھائے گئے صبر اور تحمل کی تعریف کی اور پاکستان کی مکمل حمایت اور یکجہتی کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم اس دورے کے بعد قطر اور ترکیہ کا بھی دورہ کر رہے ہیں۔ ترکیہ میں وہ پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت اور عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ یہ دورہ پاکستان کی "امن اور مذاکرات پر مبنی سفارت کاری" کا عکاس ہے، جس کا مقصد نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنا ہے بلکہ خطے میں ایک ذمہ دار اور ثالث کے طور پر پاکستان کا کردار ادا کرنا ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ہدایات پر، سعودی عرب نے پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کے اہداف کو بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے سعودی عرب نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں اربوں ڈالر کے ڈپازٹس رکھ رکھے ہیں اور بارہا ان کی مدت میں توسیع کی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے، جو پاکستان کے درآمدی بل اور تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہورہا ہے۔ اس وقت جنگ کا خاتمہ مکمل طور پر ان سفارتی کوششوں اور شرائط کی تکمیل پر منحصر ہے جو فریقین نے ایک دوسرے کے سامنے رکھی ہیں۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais