Sunday, 30 August 2026
  1. Home/
  2. Umar Khan Jozvi/
  3. Awam Ke Liye Ittehad Kab Bane Ga?

Awam Ke Liye Ittehad Kab Bane Ga?

یہ ہمارا راولپنڈی کا سفر تھا۔ وہ دونوں میزبان تھے اور ہم ان کے مہمان۔ قاری عبدالنصیر کے گھر شاندار ظہرانے کے بعد ہم تینوں قریب ہی ایک کیفے پر جا بیٹھے۔ ابھی ہم کوئٹہ وال چائے کی چسکیاں لے ہی رہے تھے کہ بڑے مولانا کے مرید مولانا تاج منیر کپ میز پر رکھتے ہوئے گویا ہوئے مولانا کا پی ٹی آئی سے اتحاد ہورہا ہے، اب دیکھنا یہ حکومت کیسے جاتی ہے؟

چھوٹے مولانا کی یہ بات سن کر ہمیں ہلکا سا جھٹکا لگا۔ پھر ہم نے گستاخی کی جسارت کرتے ہوئے بس اتنا پوچھاکہ مولانا جی حکومتوں کی آنیاں جانیاں تو لگی رہتی ہیں یہ بتائیں کہ اس ملک سے مہنگائی، غربت، بیروزگاری اور بدامنی کب جائے گی؟ کیا آپ کے مولانا صاحب ان گناہوں کے خلاف بھی کوئی اتحاد بنائیں گے یا ان کا سیاسی کھیل صرف اقتدار تک رسائی کے اتحادوں کے لئے محدود رہے گا؟ 'ہمارایہ سوال سنتے ہی اس کاچہرہ توکافی سرخ ہواپرغالباًآداب مہمانی میں ہمیں کچھ کہنے کی بجائے وہ خاموش رہے۔ وہ توخاموش رہے لیکن وہاں سے اٹھنے کے بعدہمارے دماغ کے سگنل خاموش نہیں رہے اورہم کئی گھنٹوں تک اسی سوال میں الجھے رہے کہ آخر ہم کب تک اقتدار تک رسائی کے لئے بننے والے ایسے اتحادوں، جوڑ توڑ اور سیاسی رشہ کشی و کھیل پر تالیاں بجاتے رہیں گے؟

مولاناکاپی ڈی ایم والااتحادمولاناکے مریدوں نے دیکھاہویانہ لیکن عوام تواس کودیکھ چکے ہیں۔ اس لئے عوام کو ایسے کسی اتحاد کی ضرورت نہیں جس کامقصد صرف حکومت کو گرانا ہو۔ عوام تو ایسے اتحاد کے منتظر ہیں جو ان کے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے کے لئے بنے، جو غریب کے چولہے کو جلانے، نوجوانوں کو روزگار دینے، مریضوں کو علاج فراہم کرنے، طلبہ کو معیاری تعلیم دینے اورایک ایک شہری کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لئے ہو۔ اس وقت مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑکررکھ دی ہے۔ اشیائے خورونوش، بجلی، گیس، پٹرول، تعلیم اور علاج کے اخراجات نے متوسط اور غریب طبقے کے لئے زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔

بیروزگاری نوجوانوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان بن چکی ہے جبکہ غربت کے باعث لاکھوں خاندان زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے بھی پریشان ہیں۔ دوسری طرف امن و امان کی صورتحال بھی عوام کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ ایسے حالات میں عام شہری یہ دیکھنے کا منتظر ہے کہ اس کے لیڈراورسیاستدان اس کے مسائل کے حل کے لئے کب ایک میز پر بیٹھیں گے مگرافسوس مولاناسمیت کسی بھی لیڈراورسیاستدان کوعوام کے ان مسائل کااحساس نہیں۔ مولانااورپی ٹی آئی جوآج کل کچھ قریب قریب ہورہے ہیں یہ قربت بھی ذاتی مفادات کی وجہ سے ہے۔

پی ڈی ایم اتحادکی طرح اس قربت میں بھی مہنگائی، غربت، بیروزگاری سمیت دیگرعوامی مسائل کادوردورتک نام ونشان اورآثارنہیں۔ سچ تویہ ہے کہ ہماری سیاست میں اتحاد کا مقصد اکثر عوامی مسائل کا حل نہیں بلکہ اقتدار کا حصول یا سیاسی مخالفین کو شکست دینا رہ گیا ہے۔ کیا کسی کو یاد ہے کہ اس ملک میں عوام کے لئے بھی سیاست دانوں اور لیڈروں کا کوئی ایسا اتحاد بنا ہو جس کا واحد ایجنڈا یہ ہو کہ اس ملک میں غریب عوام کے لئے آٹا سستا ہوگا، بجلی سستی ہوگی، نوجوانوں کو روزگار ملے گا، کسان کو اس کی محنت کا معاوضہ ملے گا، مزدور اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دے سکے گا، تھانے اور کچہری میں عام آدمی کی عزت ہوگی اور شہری خوف کے بغیر زندگی گزار سکیں گے؟

ہماری یادداشت میں تو سیاست دانوں کا ایسا کوئی اتحاد نہیں۔ ان کے اتحاد، اختلاف، ملاقاتیں، ناراضگیاں، مفاہمتیں اور جوڑ توڑتو زیادہ تر اپنے سیاسی مفادات کے گرد گھومتے رہے ہیں۔ یہ اقتدار سے باہر ہوں توان کے نزدیک پھر جمہوریت خطرے میں ہوتی ہے۔ یہ خوداقتدار میں آجائیں تو سب کچھ معمول کے مطابق نظر آنے لگتا ہے۔ حکومت میں ہوں تو نظام کامیاب اوراگر اپوزیشن میں چلے جائیں توپورا نظام انہیں پھر ناکام دکھائی دینے لگتاہے۔

حکومت میں آنے کے لئے منشور، وعدے اور دعوے کئے جاتے ہیں، انتخابات میں اکثریت نہ ملنے پر اپوزیشن میں جانے کے بعد حکومت کی ناکامیوں کی فہرستیں بھی سامنے لائی جاتی ہے مگر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے کے بعد کسی ظالم کوپھرعوام یادنہیں رہتے۔ کیا کبھی تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق نہیں ہو سکتیں کہ بجلی اور گیس کے بحران کا مستقل حل تلاش کیا جائے؟ کیا بیروزگاری کے خاتمے کے لئے مشترکہ قومی پالیسی نہیں بن سکتی؟

کیا تعلیم اور صحت کو سیاسی نعروں کے بجائے قومی ترجیح قرار نہیں دیا جا سکتا؟ کیا مہنگائی پر قابو پانے کے لئے حکومت اور اپوزیشن مل کر ایسی معاشی حکمت عملی نہیں بنا سکتیں جو حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ کبھی تبدیل نہ ہو؟ اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی اختلاف اکثر قومی مفاد سے بڑھ کر ذاتی اور جماعتی مفاد کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ حکومت اپوزیشن کو دشمن سمجھتی ہے اور اپوزیشن حکومت کو ہر مسئلے کی جڑ قرار دیتی ہے۔ نتیجتاً پارلیمان میں شور تو بہت ہوتا ہے لیکن عام آدمی کی زندگی میں بہتری کم ہی دکھائی دیتی ہے۔

سیاسی جماعتوں کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ اقتدار عارضی ہے مگر عوام کے مسائل مستقل ہوتے جا رہے ہیں۔ آج جو جماعت حکومت میں ہے کل وہ اپوزیشن میں ہو سکتی ہے اور جو آج اپوزیشن میں ہے وہ کل اقتدار میں آ سکتی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں صرف اپنی باری کا انتظار کرتی رہیں اور عوامی مسائل جوں کے توں رہیں تو جمہوری نظام سے عوام کا اعتماد مزید کمزور ہوگا۔ اگرمولاناصاحب سمیت سیاسی قیادت واقعی ملک و قوم کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہے تو اسے حکومت مخالف اتحادوں سے آگے بڑھ کر عوامی مسائل کے حل کے لئے کوئی اتحاد بنانا ہوگا۔ ایسا اتحاد جس میں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی مخالفت ضرور کریں مگر عوام کے بنیادی حقوق، معیشت کی بہتری اور ملک کے مستقبل پر سمجھوتہ نہ کریں۔

اتحاد بنانا بری بات نہیں مگر اتحاد کا مقصد اہم ہوتا ہے۔ اگر اتحاد اقتدار کے لئے ہو تو یہ صرف سیاسی عمل ہے لیکن اگر اتحاد عوام کے لئے ہو تو یہ پھر سیاست کے ساتھ قومی خدمت اورعبادت بن جایاکرتی ہے۔ آج ملک کو ایک اور سیاسی محاذ آرائی سے زیادہ قومی اتفاق رائے، سنجیدہ سیاسی قیادت اور عوامی مسائل کے حل کے لئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے، اس لئے ملک میں ایک ایسا اتحاد بھی ہونا چاہیے جو مہنگائی، غربت، بیروزگاری، بدامنی اور ناانصافی کے خلاف ہو۔ جس دن مولاناایسااتحادبنانے میں کامیاب ہوگئے وہ دن مولاناکے مریدوں کے ساتھ ہم سب کے لئے بھی خوشی سے جھومنے کاہوگا۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui