Saturday, 11 July 2026
  1. Home/
  2. Umar Khan Jozvi/
  3. Dunya Ko Jang Nahi Aman Chahiye

Dunya Ko Jang Nahi Aman Chahiye

دعاؤں، التجاؤں اورہزارکوششوں کے باوجودجب امن کی جگہ جنگ کااعلان ہوتاہے توتکلیف توپھرہوتی ہے۔ امریکہ ایران جنگ رکوانے کے لئے ہم نے کیاکچھ نہیں کیا؟ اپنے سے ہزاروں میل دورعرب وفارس کوجنگ کاایندھن بنانے سے بچانے کیلئے ہم نے تووہ وہ قرض بھی چکائے جوہم پرفرض بھی نہیں تھے۔ آبنائے ہرمزپرجھومنے اورجھولنے والے مسٹرٹرمپ اورپاسداران انقلاب والے اگرمشرق وسطیٰ کوسرخ جامہ پہنانے کی قسم کھاچکے ہیں توہمارے خیال میں پھران کی منتیں کرنافضول اوربیکار ہے۔

ہمارے بڑے اکثرکہاکرتے تھے کہ دولڑنے والے اگرمنت سماجت اورخداکے واسطوں سے بھی لڑنے سے بازنہ آئے توپھرانہیں کھلاچھوڑدیناچاہئیے تاکہ دودھ کادودھ اورپانی کاپانی ہوجائے۔ بچے اکثرلڑتے رہتے ہیں، ہمیں یادہے گاؤں میں جب بھی بچے لڑتے توہم انہیں چھڑانے کی کوشش کرتے جب کوشش، منت اورسماجت کاان پرکوئی اثرنہ ہوتاتوہم مجبورہوکرانہیں چھوڑدیتے۔ پھرچندلمحوں میں جب ایک دوسرے کے ہاتھوں دونوں کی خوب ٹھکائی ہوتی توجھگڑاخودبخودختم ہوجاتا۔ نہ امریکہ کوئی چھوٹاہے اورنہ ہی ایران کوئی بچہ لیکن دونوں نے کام بچوں والے پکڑے ہوئے ہیں۔

دنیاکی ہزارکوششوں اورالتجاؤں کے باوجوددونوں فریق لڑائی سے بازنہیں آرہے۔ وزیراعظم شہبازشریف اورفیلڈمارشل جنرل عاصم منیرجیسے امن پسندلوگ محنت، کوشش اورجدوجہدکرکے ان کے درمیان جنگ بندی اورراضی نامہ کرادیتے ہیں۔ اگلے دن یہ بچوں کی طرح پھر منہ میں دھمکیاں اورہاتھوں میں پتھراٹھائے ایک دوسرے کومارنے کیلئے دوڑرہے ہوتے ہیں۔ لوگ کب تک ان کے درمیان مصالحت، ثالثی اورراضی نامے کرواتے رہیں گے؟ دنیاکب تک امریکہ ایران جنگ رکوانے کیلئے آگے آئے گی؟

امن کیلئے منت سماجت کرنے والے بھی آخرایک دن تنگ آکرانہیں لڑنے والے بچوں کی طرح آزادچھوڑدیں گے کہ چلواپناشوق پوراکرلو۔ پٹائی ہوئی تودونوں خودٹھنڈے ہوجائیں گے۔ ہم پہلے بھی کہتے اورلکھتے رہے ہیں اوراب بھی کہتے ہیں کہ جنگ مسائل کاحل نہیں بلکہ جنگ تومسائل کی اصل ابتداء ہے۔ جنگ سے جومسائل جنم لیتے ہیں وہ پھرصدیوں بعدبھی حل نہیں ہوتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگ پھر صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتی۔

ماناکہ گولیاں چند سپاہیوں اورشہریوں کو لگتی ہیں مگر اس کے زخم پھر پوری انسانیت کے جسم پر ثبت ہوتے ہیں۔ جب بھی دنیا کی بڑی طاقتیں آمنے سامنے آتی ہیں توسب سے پہلے امن تباہ ہوتاہے، جب کسی جگہ امن نہیں رہتاتووہاں پھر معیشت اورانسانوں کاکوئی حال نہیں ہوتا۔ یقین نہ آئے توآگ اوربارودمیں جلنے والے ملکوں، شہروں اورقصبوں کودیکھ لیں۔ جنگ نے عراق، شام، لیبیااورافغانستان کے ساتھ کیاکیا؟ مسٹرٹرمپ اورپاسداران انقلاب کویہ بات سمجھ جانی چاہئیے کہ جنگ صرف بموں، میزائلوں اور بارود کا نام نہیں یہ تباہی، بربادی، بھوک، بیروزگاری، مہنگائی اور بے یقینی کا دوسرا نام بھی ہے۔

کسی بھی خطے میں جب کشیدگی بڑھتی ہے توسب سے پہلے سرمایہ کار پیچھے ہٹ جاتے ہیں کیونکہ جنگ وجدل سے تجارت کے دروازے بند، سمندری راستے غیر محفوظ اور عالمی منڈیاں عدم استحکام کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس کے بعد جو بوجھ پیدا ہوتا ہے وہ بالاخرعام انسان کے ناتواں کندھوں پرڈالاجاتا ہے۔ آج دنیاپہلے سے ہی ایسی مقام پر کھڑی ہے جہاں اسلحے پر کھربوں ڈالرتو خرچ کئے جاتے ہیں لیکن بھوک، بیماری، تعلیم اور صاف پانی جیسے بنیادی مسائل اب بھی کروڑوں انسانوں کی زندگی کا حصہ ہیں۔ اگر یہی وسائل انسانی ترقی پر صرف کئے جاتے تو شائد دنیا کی شکل اس سے مختلف ہوتی۔

افسوس کہ طاقت کی دوڑ اکثر انسانیت کی ضرورتوں پر غالب آ جاتی ہے۔ یہی معاملہ اورمسئلہ امریکہ ایران تنازعہ میں بھی ہے۔ دنیارل رہی ہے لیکن عالمی طاقتیں اپنی برتری ثابت اورچوہدراہٹ قائم کرنے کے لئے انسانیت پر دوڑنے میں مگن ہیں۔ انہیں امن اورانسانیت کی کوئی فکرہی نہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی میں تیزی نے اب ایک بار پھر دنیا کو خوف، بے یقینی اور معاشی ہلچل سے دوچار کردیاہے۔

طاقت کومقدم اورانسانیت کوپیچھے چھوڑنے کے باعث ہی اس کشیدگی کے بارے میں یہ سوال بارباراٹھ رہا ہے کہ کیا یہ محض طاقت کے اظہار کی سیاست ہے، محدود دفاعی کارروائیوں اورمیزائلوں کا سلسلہ یا ایک ایسی کشمکش جس کی قیمت ہمیشہ عام انسان ادا کرتا رہے گا؟ کیونکہ امریکہ جیسی بڑی طاقتوں کے درمیان جب بھی جنگ اوربدامنی کے بادل منڈلانے لگتے ہیں تودنیاکے اندرسب سے پہلے تیل کی قیمتیں بے قابو ہوناشروع ہوجاتی ہیں۔ تیل جب مہنگا ہوتا ہے تواس سے پھرسونہیں بلکہ ہزارمسائل اورنکل آتے ہیں کیونکہ تیل مہنگاہونے کی وجہ سے ہی نقل و حمل مہنگی ہوتی ہے، صنعت متاثر ہوتی ہے، بجلی کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے اور پھر مہنگائی کی ایک نئی لہر غریب ممالک کے دروازے پر دستک دینے پہنچ جاتی ہے۔

پاکستان جیسے غریب ممالک جو پہلے ہی معاشی دباؤ، بیرونی قرضوں اور مہنگائی، غربت وبیروزگاری جیسے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ ان پر اس کے اثرات کئی گنا زیادہ محسوس ہوناشروع ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے جنگ وکشیدگی کے بادل مشرق وسطیٰ میں نمودارہوتے ہیں پرپسینے میلوں دوربیٹھے غریبوں کے چوٹنے شروع ہوجاتے ہیں۔ طاقت رکھنے والوں کی زبان پرجنگ کے علاوہ کوئی بات نہیں لیکن سچ یہ ہے کہ دنیاوالوں کوجنگ نہیں امن چاہئیے۔ کیونکہ انسان روٹی پرجیتتاہے اورروٹی کانوالہ تب ہی ملتاہے جب امن ہو۔ دنیا کے عوام کی خواہش نہ امریکہ کی فتح ہے اورنہ ایران کی شکست۔

ایک عام انسان صرف امن چاہتا ہے۔ بہترروزگار، بچوں کی اچھی تعلیم اور مہنگائی سے نجات چاہتا ہے۔ اسے اس بات سے غرض نہیں کہ عالمی طاقتوں کی سیاسی شطرنج میں کون سا مہرہ آگے بڑھتاہے اورکونساپیچھے رہ جاتاہے۔ جس طرح بھوکے کے حساب کتاب میں دوجمع دوچارروٹیاں ہوتی ہیں اسی طرح آج کے انسانوں کی سوچ، فکراورحساب بھی صرف یہ ہے کہ دنیاکے اندرامن قائم ہوتاکہ ان کے گھروں کے چولہے جلتے رہیں اور ان کے معصوم اورپھول جیسے بچوں کا مستقبل محفوظ رہے۔

دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ میں کوئی حقیقی فاتح نہیں ہوتا۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی اصل ذمہ داری یہی ہونی چاہیے کہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرایا جائے نہ کہ دنیا کو بار بار جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا جائے۔ عالمی رہنما جنگی بیانات کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیں، اسلحے کے انبار لگانے کے بجائے اعتماد کی فضا قائم کریں اور سیاسی مفادات کے بجائے انسانی جانوں کی قدر کو مقدم رکھیں کیونکہ تاریخ یہ سبق بار بار دہرارہی ہے کہ جنگیں ختم ہو جاتی ہیں مگر ان کے زخم پھر نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais