Saturday, 07 November 2026
  1. Home/
  2. Umar Khan Jozvi/
  3. Tabdeeli Ke Liye Aik Shakhs Bhi Kafi Hai

Tabdeeli Ke Liye Aik Shakhs Bhi Kafi Hai

ہمارے ہاں عموماًیہ بات کہی جاتی ہے کہ تبدیلی، ترقی اور انقلاب کے لئے پورے نظام کا درست ہونا، تمام لوگوں کا مخلص ہونا اور ہر طرف سازگار ماحول کا ہونا ضروری ہے۔ بظاہر یہ بات درست بھی محسوس ہوتی ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات موجود ہیں جو اس تصور کو غلط ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات ایک مخلص، باصلاحیت اور کام کرنے کے جذبے سے سرشار شخص بھی کسی ادارے، معاشرے اور نظام کی تقدیر بدلنے کا سبب بن سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اس کے دل میں خداکاخوف، کچھ کر گزرنے کا عزم، اخلاص، حوصلہ اور جذبہ موجود ہو۔ ہمارے ہاں بھی اقتدارسے تازہ تازہ جانے والوں نے تیرہ سال تک حکومت کی پراس کے باوجودیہاں تبدیلی، ترقی اورعوامی خوشحالی کی کوئی بات اورسین نہیں لیکن پنجاب میں مریم نوازکی پہلی باری ہے۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ نوازشریف کی اس بیٹی نے فردواحدہوکر پنجاب میں تبدیلی وترقی کے حوالے سے جوتاریخ رقم کی ہے خیبرپختونخواکیا؟ سندھ اوربلوچستان والے بھی اس کی نظیرپیش کرنے سے قاصرہیں۔ تبدیلی وترقی کیلئے پورے نظام کی درستگی اورسارے لوگوں کی ایمانداری یہ ہوائی باتیں ہیں کام کرنے والے اگرمریم نوازکی طرح مخلص ہوں توپھردوتین سال میں بھی کام ہوجاتے ہیں نہیں توپھرتبدیلی وترقی کیلئے تیرہ سال بھی کم پڑجایاکرتے ہیں۔

ہمارا المیہ ہی یہ ہے کہ ہم اکثر اپنی ناکامیوں کا سارا ملبہ نظام، حالات، وسائل اور دوسروں پر ڈال کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں۔ کوئی کام نہیں ہوتا تو کہتے ہیں کہ یہاں نظام ہی خراب ہے۔ کوئی ادارہ ترقی نہیں کرتا تو کہتے ہیں کہ لوگ ہی کام کرنے والے نہیں اور تبدیلی نہیں آتی تو اس کے لئے پورے معاشرے کے بدلنے کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر بڑی تبدیلی کا آغاز کسی ایک شخص کے چھوٹے سے قدم سے بھی ہوتا ہے۔ ایک شخص تبدیلی، ترقی اورانقلاب کانقطہ آغازکیسے بنتاہے یہ حقیقت ہم کئی بار اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔

گورنمنٹ ہائی سکول جوزیہ ہماراآبائی سکول ہے اورہم نے کئی جماعتیں اس سکول میں پڑھی ہیں۔ ہمارے وقت میں مطیع اللہ، عبدالقدوس، محمدسراج مرحوم، سیف الرحمن، عرفان، حضرت یوسف، قاری محمدحسن مرحوم، محمدآمین اورقاری سعدملوک جیسے ناموراستاد اس سکول میں تھے جن کی محنت اورمحبت کی وجہ سے تعلیمی میدان میں اس سکول کاایک نام تھالیکن ہمارے بعدجوں جوں یہ اساتذہ ایک ایک کرکے اس سکول سے رخصت یاٹرانسفرہوئے تواس سکول کاحال بھی بے حالی تک پہنچ گیا۔ پھردرمیان میں ایساوقت بھی آیاکہ بورڈامتحان میں اس سکول کارزلٹ دیکھنے کاقابل بھی نہ رہا۔ میٹرک امتحانات میں بیس اورتیس میں سے دس پندرہ طلبہ کافیل ہوجانایہ معمول بن گیاتھا۔

سکول کی اس کارکردگی اورمایوس کن نتائج کودیکھ کروالدین اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے اس ادارے سے خوف محسوس کرنے لگے تھے۔ جس درس گاہ پرہم سراٹھاکر کبھی فخر کیا کرتے تھے، اس کی یہ حالت دیکھ کردل دکھتا تھا۔ علاقے میں جس سے اس سکول اورطلبہ کے تاریک مستقبل کے بارے میں بات کی جاتی اس کاایک ہی جواب ہوتاکہ سکول میں اکثریت نااہلوں کی ہے، اب اس سکول اوراس کے طلبہ کاکچھ نہیں ہوسکتالیکن پھردنیانے دیکھاکہ ایک۔ ہاں۔ صرف ایک، استاد، کی وجہ سے وہ کچھ ہواجس کاکوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھا۔

ضابر استاد نے ایکٹنگ انچارج بننے کے بعد حالات کا رونا رونے، وسائل کی کمی کا شکوہ کرنے یا ماضی کے زوال کو اپنی ناکامی کا جواز بنانے کے بجائے عملی طور پرایسا کام شروع کیاکہ پیچھے پھر مڑکر دیکھاہی نہیں۔ شبانہ روز محنت، ذاتی دلچسپی، نظم و ضبط اور تعلیمی بہتری کے لئے مسلسل کوششوں سے ضابراستاد نے ادارے کی حالت بدلنے کا بیڑا اٹھایا۔ ان کی محنت اور لگن کا نتیجہ ہے کہ آج یہ سکول ایک بار پھر اپنی سابقہ تعلیمی شناخت اور عروج کی طرف لوٹ گیاہے۔ سکول کاوہ نظام جوتہس نہس ہوکررہ گیاتھا۔ اس ایک، استاد، کی برکت سے وہ سارانظام ایسا ٹھیک ہواکہ بورڈامتحانات سمیت آج ہردوڑمیں یہ سکول پھرسے آگے ہے۔ ہمارے علاقے کے لوگ آج بھی ضابراستادکوجھولیاں پھیلاپھیلاکردعائیں دے رہے ہیں۔

ضابراستاد میں جوانی کاخون اورکام کاجنون تھا، وہ خودٹھیک تھے اس لئے ضابراستادکا سکول کاوقتی انچارج بنتے ہی انتہائی مختصرعرصے میں اس نے باقی سب کوبھی اپنی طرح ٹھیک کردیا۔ یاسراستادکوکئی بارضابراستادکے بارے میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ غیرحاضراورسست ٹیچرزکے خلاف رپورٹ لکھتے ہوئے ضابراستادقسم اٹھاکرکہتے کہ ان اساتذہ کی جگہ اگرمیرے باپ بھی ہوتے تومیں اس کے خلاف بھی یہی رپورٹ لکھتا۔ ضابراستادجیسے لوگوں کایہی کردار وہ مقام ہے جہاں ہمیں ٹھنڈے دل سے یہ سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ادارے عمارتوں، فرنیچر اور سرکاری وسائل سے نہیں بلکہ ان میں کام کرنے والے مخلص لوگوں سے ترقی پاتے ہیں۔

ایک اچھا استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا بلکہ ضابراستادکی طرح نسلوں کا مستقبل سنوارتا ہے۔ سیاست وحکمرانی کی بات ہوتواسی طرح مریم نوازجیساایک اچھا وزیراعلیٰ صرف صوبہ نہیں چلاتا بلکہ پورے صوبے کی سمت متعین کرتا ہے۔ صوبائی سطح کی قیادت اور انتظامی صلاحیت کے حوالے سے جب بھی بحث ہوگی اس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکانام اورذکرسرفہرست ہوگاکیونکہ اس خاتون نے تعمیر، ترقی اورعوامی خوشحالی کے حوالے سے تمام صوبوں کوپیچھے چھوڑدیاہے۔ اسی وجہ سے توان کے دور حکومت میں شروع ہونے والے ترقیاتی اور عوامی فلاح کے منصوبوں کونہ صرف ان کے حامی بلکہ سیاسی مخالفین بھی صوبے میں تبدیلی کی ایک اعلیٰ مثال قرار دے رہے ہیں۔

ماناکہ ہمارے ہاں ترقیاتی منصوبوں، ان کے عملی نتائج، عوام کو پہنچنے والے فائدے اور مسائل کے پائیدار حل کاکریڈٹ پوری ٹیم اورحکومت کودیاجاتاہے لیکن ان سب چیزوں میں حکومت وٹیم کولیڈکرنے والے کا فعال ہونا، فیصلے کرنے کی صلاحیت اور کام کرنے کا جذبہ سب سے اہم ہے۔ یہ بات تو ہمیں ماننی پڑے گی کہ دل میں خدمت کاجذبہ اورخداکاخوف ہوتوپھرمریم نوازجیسی اکیلی خاتون اورضابرجیساایک استاد بھی مختصرعرصے میں بہت کچھ کرلیتے ہیں۔ دل میں اگر کچھ کرنے کی نیت ہی نہ ہوتوپھرخیبرپختونخواکے محمودوایازکی طرح بڑے بڑے پہلوان اورحکمران بھی بارہ تیرہ سالوں میں کچھ نہیں کرسکتے۔

ایک طرف تیسری بارمسلسل حکمرانی کامزہ چکھنے والوں کاصوبہ ہے اوردوسری طرف مریم نوازکی پنجاب میں پہلی باری، آپ کوخیبرپختونخوااورپنجاب کی تعمیروترقی اورعوامی سہولیات میں واضح فرق نظرآئے گا۔ یہ باتیں کہ سب لوگ اورنظام ٹھیک ہوگاتوتبدیلی آئے گی یہ قصے اورکہانیاں اب پرانی ہوگئی ہیں۔ مریم نوازاورہمارے ضابراستادنے یہ ثابت کردیاہے کہ ملک وقوم کی ترقی اورتبدیلی کے لئے لشکراورہجوم نہیں بلکہ صرف محنت اوراخلاص ضرورت ہے۔

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui