Saturday, 28 March 2026
  1. Home/
  2. Ali Raza Ahmed/
  3. Az Raah e Kanjoosi

Az Raah e Kanjoosi

تحریر شناس لوگ اپنے مطالعاتی تجربے سے پہچان لیتے ہیں کہ ان کے سامنے موجود تحریر سے کس معروف مصنف کے اسلوب کی مہک آ رہی ہے لیکن ان کے لیے یہ اندازہ لگانا بہرحال مشکل ہوتا ہے کہ مصنف کتنا سن رسیدہ ہے۔ مزاح لکھنے کے لئے جملوں کے ذخیرے کو یورنیم کی طرح تلاش کرنا پڑتا ہے اور دماغ کی مشین کے ذریعے اس کی افزودگی Enrichment کرنا پڑتی ہے۔ اس مشق کی عدم دستیابی کی وجہ سے کئی نوجوانوں کی تحریریں بھی نحیف و نزار معلوم ہوا کرتی ہیں اور ان کی تحریروں پر ناقدین کو جھریاں بھی شفاف نظر آ جاتی ہیں۔ مگر دوسری جانب عمر رسیدہ لکھاریوں کی تحریر میں بھی بڑا "دَمَ خم" نظر آتا ہے اور وہ اچھے بھلے خمیدہ کمر"نوجوانوں" کو قابو میں لے کر گھیرا ڈال لیتی ہے اور پھر اپنے اس تحریری جال کے شکنجے سے نکلنے نہیں دیتی اور اسے ہمیشہ اپنا دامن گیر بنائے رکھتی ہے۔

ایک عمر رسیدہ کمر خمیدہ شاعر جس کے لئے چلنا پھرنا تو درکنار ذرا سی لب کشائی بھی عذابِ جان ہوتی ہے مگر اس کی غزل کے اندازِ زلف گیری کے فن سے ذِی عقل نوجوان بھی باآسانی اس کے پھندے میں تو آ جاتے ہیں مگر ایک کام یہ اچھا ہوتا ہے کہ انہیں مطالعہ کا شوق پڑ جاتا ہے اور وہ تحریر گردی شروع کر دیتے ہیں لیکن یہاں ایک بات اہم ہے کہ کتاب کا انتخاب کبھی اس کے انتساب سے نہ کریں اور اگر آپ خوشی خرید نہیں سکتے تو کم از کم کتاب خرید کر تجربہ کر لیں آ پ کو کچھ نہ کچھ افاقہ ضرور ہو جائے گا مگر آ پ اس علاجِ بے مثال کو کامل خوشی بھی نہیں کہہ سکتے۔

اس عمل کو ذہن میں گروی رکھی گئی خوش اسلوبی کہہ کر دل کوخوب بہلا سکتے ہیں۔ جی ہاں! اگر خوشی خوشی خریدی گئی کتاب ذرا مہنگی بھی محسوس ہو توقاری شکل سے بھی خوشی کا مارا لگتا ہے۔ جیسے پیکنگ پر لکھا ہوتا ہے دوائیاں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔ آج کل کتاب قیمتی ہونے کی وجہ سے بڑوں کی پہنچ سے بھی دور ہو چکی ہیں چنانچہ یہ "مریض" پہلے سے کہیں زیادہ حالات کا مارا لگتا ہے۔ ویسے راقم نے اپنے ہر دور میں مہنگائی دیکھی ہے حالانکہ بچپن میں جیب خرچ کے لئے "وافر" رقم ملا کرتی تھی لیکن اس سے بمشکل ایک عدد قلفی یا دو عدد ٹافیاں ہی خرید پاتے تھے دوسری جانب پرانے لوگوں کے پاس پتا نہیں کیا زود و فہم تھا کہ وہ اسی رقم سے سامانِ آسائش کا خاطر خواہ اہتمام کر لیتے تھے بلکہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ دوکاندار کا سامان آنکھ بچا کر اٹھا لائے ہوں۔

راقم ویسے بھی"کم گو" ہے۔ زیادہ باتیں کرنا اور ادھر ادھر آنا جانا، ہر دور میں اس کے لئے مشکل رہا ہے۔ اس لئے وہ انگریزی والا come/go بھی انہی معنوں میں استعمال کر لیتا ہے۔ اگرکسی انسان کی جبلت میں ایک آدھ خصوصیت یا مسٹنڈہ پن ہو تو وہ دوسرے کے اندر سے بھی باآسانی تلاش کر لیتا ہے۔ فرض کریں کہ اگر ایک شخص جھوٹ بولنے کی "صلاحیت" رکھتا ہے تو وہ اپنے سے دو ہاتھ بلند جھوٹے کی "تعریف" پوری "سچائی" اور بغیر کسی ملاوٹ کے بیان کرے گا۔ اسی طرح ایک ملاوٹ کرنے والے دوسرے ملاوٹ کرنے والے کے "اوصاف" بغیر کسی لفظی ملاوٹ کے یوں بیان کرے گا کہ وہ انسان آپ کو چونتیس قیراط کا لگے گا۔ چغل خور تو ویسے ہی ایک آنکھ بند کرکے آپ کے تمام خدو خال با اپنے کمال انداز میں دوسروں سے یوں بیان کر دیتا ہے کہ آپ کو صفائی کا موقع ہی نہیں مل پاتا اور سننے والے کو بھی بس اسی کی سچی باتوں میں وزن نظر آتا ہے اور وہ اس کی ہاں میں ہاں ملانے میں کنجوسی سے کام نہیں لیتا مگر کسی کی اچھائی بیان کرنے کے لئے یہ کنجوسی کی اپنی تمام توانائیاں صرف کرنے برسر پیکار ہو جاتا ہے۔

اچھی کتاب کا مطالعہ توانائیاں استعمال کرنے کے علاوہ تکمیل سفر سے بھی ذرا مختلف ہوتا ہے اگر آپ کی منزل قریب آ رہی ہو تو طبیعت میں سکینت طاری ہونا شروع ہو جاتی ہے لیکن جیسے ہی آپ اپنی من پسند کتاب کے اختتامی صفحات تک پہنچتے ہیں تو ایک اضطراب سا شروع ہوجاتا ہے اور دل چاہتا ہے کہ چند صفحات مزید مطالعہ کے لئے مل جائیں۔

یہ تجربہ آپ کی نظروں سے بھی گزرا ہوگا کہ جب کہیں تین چار دوست بیٹھے باتیں کر رہے ہوں اس وقت وہ آپس میں گفتگو کرکے بہت محظوظ ہو رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ تجربے کے طور پر ان کے قریب ہو کر بیٹھ جائیں اور کان لگا کر ان کی بات سننے کی کوشش کریں تو آپ کو یہ حیرت ہوگی کہ آپس میں جن باتوں پر وہ بہت مسرور و شاداں دکھائی دے رہے ہیں ان کا تو کوئی سر پیر ہی نہیں ہے اور وہ بے خودی میں کھلکھلاتے جا رہے ہیں۔ دریں اثناء وہ کسی بات پر ہاتھ پر ہاتھ مار کر قہقہہ لگائیں تو سمجھ لیں وہ بات سب باتوں سے بے سروپا اور بدمزہ ہوگی۔ بالکل اسی طرح اگر کتاب کو دوست بنا لیا جائے تو وہ بھی ہمیں ایسے دوستوں کی طرح لطف اندوز کرتی ہے اور پھر اس سے قرابت کا سلسلہ چلتا رہتا ہے چنانچہ انسان کتاب کے مطالعہ سے اپنے اندر ہی اندر ایک راحت اور شگفتگی محسوس کرتا ہے۔

ہمارے دفتر میں ایک کنور صاحب ہوا کرتے تھے وہ ایک عالمی معیار کے کنجوس مشہور تھے اس وجہ سے بطور کنور کنجوسی کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔ جب انہیں نئے مالی سال کے آغاز یعنی جولائی کی تنخواہ ملتی تو وہ گھر والوں کے لئے دو کلو آم خریدتے۔ ظاہر ہے جنوری کی تنخواہ سے وہ اپنی کریز سے نکل کر بھی موسمیاتی، برساتی اور خیراتی کارِ خیر کا حوصلہ نہیں کر سکتے تھے۔ اہل خانہ کے لئے یہ سالانہ بونس ذرا کچے آموں کی صورت میں ہی ہوتا تاکہ وہ اگلے تین چار دنوں میں پک کر تیار ہوں اور بچے چار پانچ دن ان کی بھینی خوشبوسے ویسے ہی لطف اندوز ہوتے رہیں۔ اگر گھر کا کوئی نوزائیدہ اور ناقص العقل فرد ان کچے آموں پر شب خون مار بھی لیتا تو وہ زیادہ سے زیادہ اچاری آم کا سواد ہی لے پاتا۔ مگر اِن کے بچے بھی اُن دنوں بڑے صابر شاکر ہوا کرتے تھے اور ان کے لیے چار پانچ دن تو کیا ایک دو ہفتے انتظار کرنے کی خودارانہ صلاحیتیں بھی پیدا کی گئی تھیں۔ کنور صاحب کی جانب سے یہ کارِ ثروت بس ایک آدھ بار سالانہ ہی ہوتااور وہ بچوں کو ساتھ یہ تسلی بھی ضرور دے دیاکرتے کہ بس سارے آم ایسے ہی ہوتے ہیں اور سب کا ذائقہ بھی یکساں ہی ہوتا ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais