Saturday, 14 March 2026
  1. Home/
  2. Ali Raza Ahmed/
  3. Dhaati Samosa

Dhaati Samosa

ایک چھوٹے قد کا گول مٹول شخص سائیکل سے اترتے ہوئے قلابازیاں کھا کر ایسا گرا کہ لوگ اس کی مددکو فوری لپکے۔ پاس کھڑا اس کا دوست بولا گھبرائیں مت چاچاپیجا سائیکل سے ایسے ہی اترتا ہے۔ ایسی ایک خبر بھارت سے ہے کہ اس کا اپنا تیار کردہ تیسراتیجاس فائٹر گرگیا ہے جو صدر ٹرمپ کی طرف سے دی گئی تعداد سے علیحدہ ہے۔ پہلے بھی تیجاس ایک معمولی خامی کی وجہ سے گرا تھا اب اس کے گرنے کی وجہ بھی شاید "معمولی" یا معمول کا حصہ ہے۔ بھارتی ماہرین چاہتے ہیں کہ اس کی کوئی بڑی خامی یا ٹیکنیکل فالٹ سامنے آئے تاکہ ایسے حادثا ت کی مکمل جانچ کی جا سکے۔ شاید ان حادثات کی "معمولی" وجہ یہ ہے کہ ٹیک آف کے بعد رن وے پر واپس اترنے سے گھبراتا ہے اور اس سے کوسوں دور"چاچے پیجے" کی طرح لینڈ کرتا ہے۔

بھارت کی ایک یونیورسٹی کے سٹودنٹس نے بھی طیارے کے پروجیکٹ پر کام کرکے ایک طیارہ بنایا اور اس کی آزمائشی پرواز کے دن اپنے تمام ٹیچرز کو اس میں سیر کی دعوت دی۔ وہ تمام اس میں سوار ہونے سے ہچکچاتے رہے کہ وہ اپنی جان خطرے میں کیوں ڈالیں۔ اتنے میں ایک پروفیسریہ کہتے ہوئے اس کے اندر داخل ہوئے کہ جلدی کرو بئی دوسری کلاس میں بھی میرا پیریڈ شروع ہونے والا ہے۔ دوسرے ٹیچرز نے پروفیسر سے پوچھا سر آپ کیوں اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

پروفیسر کہنے لگا اسے میرے ہونہار سٹوڈنٹس نے بنایا ہے مجھے یقین ہے کہ یہ جہاز اپنی جگہ سے ہلے گا بھی نہیں۔ کیونکہ یہ بھارت کا اپنا تیار کردہ طیارہ ہے اس لئے اس کے ڈیزائن کے بارے میں بھارتی جنتا سے رائے لینا ضروری سمجھا گیا۔ جنتا نے اصرار کیا کہ اس بھارتی پروڈکٹ کو کسی منورنجن بھوجن کی سی شبیہ دی جائے۔ زیادہ عوام نے سموسے پکوڑے یا دہی بھلے کے حق میں فیصلہ دیا، چنانچہ پکوڑوں کو اس وجہ سے رد کر دیا گیا کہ تمام فائٹرز کی ڈائی ایک جیسی نہیں بنے گی اور یہ ایک جگہ کھڑے دور سے یوں لگیں گے جیسے وہاں کوئی ادرک پھینک گیا ہو بالآخر سموسے کے حق میں فیصلہ ہوگیا صرف اس شرط پر کہ سموسے کو S بجائے C سے لکھا جائے، مگر مودی نے کاک پٹ کو چائے کے کپ کی طرح بنانے پر اصرار کیا، جو فوری منظور کر لیا گیایوں اس سموسے میں صرف وہ پائلٹ سمو سکتا ہے جو آلو جیسا ہو۔

اس فائٹر کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس کی لینڈنگ بہت اچھوتی ہے بالکل ایسے جیسے سموسے کو کڑاہی سے نکال کر پرات میں پھینکتے ہیں۔ اس بارے مزید لگتا ہے ہندوستان کی فضائی صنعت نے اس فائٹر کو اپنے پائلٹ کے دفاع اور حِسِ مزاح کے ساتھ تراشا ہے، اسے بنانے والی تنظیم Hindustan Aeronautics Limited نے آلو اور میدے کی دھات اور آلات سے یہ سموسہ تیار کیا ہے جس میں سپیڈ سے زیادہ تیز مصالحے ہیں، بلکہ اس کے پاس سے میزائل گزر جائے تو یہ اس کا بھی پیچھا کرتا ہے۔ ایک ظریف پائلٹ نے اس کے مخفف کی یوں تشریح کی ہے کہ T.E.J.A.S مخفف ہے Technical Entire Jet Avionic Sonic کا۔

لگتا ہے ماہرین نے اس کانام واقعی سوچ سمجھ کر رکھا ہے۔ Light Aircraft اس لئے کہتے ہیں کہ اس کے بارے ہر مسئلے کو لائٹ لیا جائے۔ یہ بھی کہا گیا کہ جیسے ویکسین بنانے کے لئے شروع میں خامیاں اور خرابیاں آتی ہیں اس لئے اس جہاز کے نام کو ہی Technical کر دیا گیا ہے۔ اس کی ایک اور خوبی کہ فیول کا استعمال کم کرتا ہے بس اتنا جتنا سموسہ تلنے کے لئے تیل۔ تیجاس کی تعریف میں ایک ریٹائرڈ چیف نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ جسامت میں واقعی کم ہے آپ اسے کاغذی سموسہ بھی کہہ سکتے ہیں، یعنی معاشرے کے ہر یونٹ نے اس کی تعریف میں اپنی سخن وری کا حصہ ڈالا ہے۔ یہ واقعی بہت ہلکا ہے دنیا کو کیا معلوم کہ "ہلکا" کیا ہوتا ہے، مگر یہ پائلٹ کے لئے ذرا بھاری معلوم ہوتا ہے۔ میرے دوست وقار مجروح کے بارے میں بھی لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ ہلکا بندہ ہے۔

ہرجہاز کو ٹیک آف کرانا آسان ہوتا ہے اور لینڈکرانا اس لئے مشکل ہوتا ہے کہ دور سے رن وے 12انچ کے پیمانے کی طرح لگتا ہے۔ اگر کوئی ملاح کا بیٹا ابھی نندن نما پائلٹ ہو تو وہ لینڈنگ کے لئے Jetty ہی تلاش کرے گا۔ چنانچہ ہر بھارتی پائلٹ کی خواہش ہے کہ یہ بس تجاس ہی اڑائے اور"بحفاظت"زمین پر آئے کیونکہ اس کی ایک اورواضع خوبی سامنے آئی ہے کہ یہ فائٹر اپنے پائلٹ کی زندگی بچانے کے لئے بہت فائٹ کرتا ہے یوں اس میں بیٹھا پائلٹ سرکاری اہلکار زیادہ نظر آتا ہے۔ یہ فائٹرکسی بھی خطرے کو بھانپ کر اپنے پائلٹ کو باآسانی Eject کرا دیتا ہے۔ اس کی کرسی سے ہر وقت یہ آواز آتی ہے تو لنگ جا میری خیر ہے اور اگلی ٹون چڑھ جا بیٹا سولی رام بھلی کرے گا کی رکھی ہے۔

ایجیکشن چیئر سے مسلسل آوازیں آ رہی ہوتی ہیں کپتان جی گھبرائیں مت میں ہوں نا۔۔ اس کی Ejection chair بنانے والوں نے گارنٹی دے رکھی ہے کہ اگر یہ ایمرجنسی میں کام نہ کرے تو اس کا متبادل فری مہیا کیا جائے گا۔ پائلٹ کے لئے اس میں اور بھی سہولتیں ہیں اس کے اندر فریزر مائکرویو اوون بھی ہے جس میں اصلی سموسے اور کافی کا انتظام بھی ہے۔ تیجاس کی یہی خوبی کہ اس میں جس قسم کا ابی نندن بیٹھا ہووہ چند منٹوں میں دھرتی کی گود میں آ بیٹھتا ہے پھر اسے کچھ فرق نہیں پڑتا بھلے وہ دھرتی ماں ہو یا پتا کااور اگر اس جہاز کو کوئی بدنام زمانہ جہاز اُڑا رہا ہو توپھر ساکھ کیا راکھ بھی اُڑ جاتی ہے اور یوں یہ فائٹر زمین پر بلندیوں کا سفر شروع رکھتا ہے۔ اس لئے اس کے اوپر یہ لکھا ہے "آسمان پر فائٹرز کی بھیڑ اور دشمن کے ساتھ مڈبھیڑ میں استعمال نہ کریں"۔

خبریں آ رہی ہیں کہ اب بھارت انگلستان کے پائلٹس کی بھی ٹریننگ کرے گا اس میں اپنے ملک سے بھاگ کر دوسرے میں پناہ لینا ٹریننگ کا اہم حصہ ہو سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارت نے اب انہیں لینڈنگ کی superlative ڈگری یعنی "گراؤنڈ" کے آرڈر کر دیے ہیں۔ دریں اثناء بھارت کو آئندہ اس طیارے کا وقار اور ساکھ بڑھانے کے لئے درندر مودی کو خود اڑاکر دکھانا ہوگا۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais