Sunday, 23 August 2026
  1. Home/
  2. Ali Raza Ahmed/
  3. Pesha Warana Raqabatein (3)

Pesha Warana Raqabatein (3)

بالکل ایسے جیسے کسی کو سرگوشی کرتے ہوئے بات سناتے ہیں پھر یہ چھینک "ٹارگٹڈ اینگل" بناتے ہوئے گاہک کے چہرے پر پورا سپرے کرتی ہے دریں اثنا گاہک ناک منہ بسور کر اس کی طرف آخری بار دیکھتا ہے اور پھر آئندہ وہ کسی اگلے مورچے کا انتخاب کرتا ہے۔ کیدو مزید کہنے لگا ان کو کیا پتہ کانوں کا دل سے بڑا قریبی تعلق ہوتا ہے دل کی دھڑکن بھی ان کے ذریعے ہی سنی جا سکتی ہے۔ کڑوی کسیلی لطیف باتیں کانوں کے ذریعے ہی دل تک پہنچائی جاتی ہیں۔ بھلے کان کاندھوں کے ساتھ لگ رہے ہوں یا خرگوش کی طرح اوپر اٹھے ہوں ان میں "خرگوشی" کی پھر بھی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی بلکہ یہ کان اپنی "بصارت" سے محروم بھی ہو سکتے ہیں بلآخر یہ کیس ہمارے لئے"نا قابل سماعت" ہو جاتاہے نتیجہََ ان کانوں میں آواز کچھ اور پڑتی ہے اور اسے آگے کچھ اور بتا کر لڑائیاں ڈالی جاتی ہیں۔

اکثر لوگوں کو کانوں کے پردے کی شکایت ہو جاتی ہے لیکن وہ طبیب کے سامنے بھی ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں ہوتے ہیں درپردہ یہ پردہ ذرا اونچی آواز سے بھی چاک ہو جاتا ہے۔ اگر کسی تکلیف کی وجہ سے کان کا پردہ چاک ہو جائے توپھر کان واٹر پروف نہیں رہتے ایک شخص ڈاکٹر کے پاس گیا اور شکایت کی کہ میری بیوی کو کانوں کی بیماری نے آ لیا ہے اور اس کو مجھ سے بات کرتے ہوئے اونچا بولنا پڑتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اکثر اونچی آوازیں نچلے لیول تک سنی جاتی ہیں۔ کیدو کہنے لگا، دلاور ایک دن یہ اپنے گاہک سے کہنے لگا میں تجھے اے ون قسم کی دیسی ساختہ بتیسی لگا کر دوں گا جو شاید چکنی مٹی سے تیار ہوگی اور اس کی مخالفین کو کچا چبانے کی گارنٹی ہوگی۔ کیدو دلاور سے گویا ہوا؎

میں دھرتا نہیں کان باتوں پہ اس کی
ابھی کان تیرے جو بھر کر گیا ہے

اسی بحث کے دوران وقار مجروح کی نظر جب تیسرے اڈے کے ایک بورڈ پر پڑی جس پر لکھا تھا "یہاں پر وِگ مقامی معیار کے مطابق تیار کی جاتی ہے" اس بارے وہ پوچھنے لگا یہ بندہ کہاں ہے؟ کیدو کہنے لگا وہ اِدھر اُدھر منہ لگانے گیا ہوگا اور ابھی آتا ہی ہوگا پھر کہنے لگا وگ کامقامی معیار تو یہی ہو سکتا کہ علاقہ کون سا ہے اگر وہاں گرمی پڑتی ہو تو وگ میں چھوٹا ساریڈی ایٹر لگایا جاتا ہوگا یا پھرسم والی وگ بناتا ہوگا اور اگر بارش والا علاقہ ہو تو وگ پر پرنالے کی سہولت میسر ہوگی۔ کیدو مزید کہنے لگا ہماری ہفتہ وار صلح کا اہتمام اسی کے وِگ اڈے پر ہوتا ہے کیونکہ بعض اوقات آلاتِ جراحی سے زیادہ آلات اصلاحی کی ضرورت ہوتی ہے بہرحال ہم سب کاری گروں میں یہ کئی امورکا ماہر ہے۔

قے کی "قے فیت" والے مریض آڑھے ہاتھ لیتا ہے۔ خط، خطنے اور خبر رسائی کیلئے بھی یہ مشہور ہے۔ ہم سب کے خراب کیے ہوئے زخم کی جراحت بھی یہی کرتا ہے۔ کانوں کا کام میرا ہے لیکن کن پیڑے کا علاج اور حلوائیوں کا کام بھی کرتا ہے۔ ہماری صلح کروا کر کر"جرمانے"کی رقم سے کھانا بھی تیار کرتا ہے۔ کیدو مزید کہنے لگا کہ راجے کو کسی کے پکے ہوئے کھانے پسند نہیں آتے یہ ہر دوسرے کھانے سے ایسے نقص نکالتا ہے جیسے دلاور لوگوں کے دانت۔ کبھی کہتا ہے اس میں پیاز کچا رہ گیا ہے مصالحہ صحیح نہیں بھونایا نمک کم ہے وغیرہ۔ آج جب اسے کڑھی چکھائی تو محسوس ہوا کہ جیسے اسے"کڑی" سزامل رہی ہے اور کل جب اسے پلاؤ پیش کیا تو کہنے لگا؎

ذرا مٹھا نئیں ذرا پِھکا نئییں
پَلا وی اَج دا ذرا تکِھا نئیں

(یعنی یہ پلاؤ پھیکا بے ذائقہ ہے اور مرچ بھی تیکھی نہیں)۔

یہ گاہکوں کو ہر قسم کے سنیاسی مشورے بھی دیتا ہے ایک زمیندار سے اس نے پوچھا سبز مرچوں کا من کا کیا ریٹ ہے اس نے بتایا ہے ہماری دو ہزار روپے من بک جاتی ہیں اور سرخ مرچ کا ریٹ 24 ہزار کا نکلتا ہے اس پر کہنے لگا اتنا بڑا فرق؟ تم اگلی فصل سرخ مرچوں کی لگانا۔ میں تم کو بیج بھی لے دونگا ایک دوکان پر فون کرکے سرخ مرچوں کا ریٹ لیا اس نے تیس ہزار کا من بتایا۔ بات یہاں ختم ہوئی کہ پھر توبیج سے ہی چھ ہزار کا نقصان ہوگا۔ یہ اسے کہنے لگا خارش کے علاوہ توبہ کرنے کیلئے بھی کانوں کو ہاتھ لگایا کریں یہ راجہ ہماری ہر قسم کی سہولت کاری بھی کرتا ہے۔ پھر ہمیں مخاطب کرکے کہنے لگا؎

مل جل کر یوں ہی ہم جی لیتے ہیں
تم رس کھا لو ہم رس پی لیتے ہیں

اتنی دیر میں ایک بڑی مونچھوں اور بھینگی آنکھوں والا لحیم جسیم لنگڑاتے ہوئے وہاں آ کھڑا ہوا محسوس ہوا کسی عطائی کی دوائی یا سلائی نے اس آنکھ اور ٹانگ میں اپنا کام دکھایا ہو ا ہے۔ آتے ہی دلاور کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگا اس نے کسی کے دانت کا علاج کیا کرنا ہے جی دیکھو! اس کے اپنے دانت اندر سے منہ چڑا رہے ہیں۔ دلاور کہنے لگا لو جی راجہ آ گیا ہے یہ اسی لئے یہاں کا راجہ کہلاتا ہے اور ہم جیسے عقل کے اندھوں میں یہی فہم و فراست کا مالک ہے اوراندھوں میں کانا راجہ کہلاتا ہے۔

وقار مجروح کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگا؎

ہم تو شاعر لوگ ہیں صاحب
مناتے بس سوگ ہیں صاحب

زد میں ہیں حالات کے ہر دم
جیون کے یہ روگ ہیں صاحب

راجہ ہمیں کہنے لگا اب یہاں سے تمام اتایت پسندوں کو بھاگنے کا کہہ دیا گیا ہے پہلے یہاں درد دل رکھنے والے نعیم صاحب واجبی سا چھاپہ مارا کرتے تھے اب ان کی یہاں سے ٹرانسفر ہوگئی ہے اور ہمیں ان کا کوئی "نعیم البدل" نہیں مل رہا۔ بس اس کی آخری بات سننے ہی یہ وقار مجروح سمیت وہاں سے بھاگے۔ کچھ عرصے بعد جب ہم دوبارہ یہاں آئے تو ان سب کے اڈے غائب پائے۔ شاید اب یہ کہیں آن لائن کام کر رہے ہوں گے۔ یہ اتائی آن لائن دانت نکال سکتے ہیں کان کتر سکتے ہیں بال کھینچ سکتے ہیں مگر اب مزید ڈھونگ نہیں کر سکتے۔ اگر یہ مجھے یہاں مل جاتے تو میں انہیں نیتن یاہو کے کان صاف کرنے اور اس کے دانت کھٹے کرنے اور سر مونڈھنے بھیج دیتا۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui